متحدہ عرب امارات میں غیرمسلم باشندوں کے لیے نئے وفاقی عائلی قانون کا اجراء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

متحدہ عرب امارات نے غیرمسلم باشندوں کی ذاتی حیثیت سے متعلق ایک نیا قانون جاری کیا ہے۔یواے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق یہ نیا قانون یکم فروری 2023 سے نافذالعمل ہوگا۔

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کا اجراء ملک کے قانون سازی کے نظام کے ارتقاء اور اگلے 50 سال کے لیےاس کی کوششوں اور امنگوں کی تائید کرنے اور رواداری، بقائے باہمی ،خاندانی استحکام اورآبادی کے تنوع کی منزل کے طور پر اپنی قیادت کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

اس قانون کی دفعات شادی کی شرائط اور مجاز عدالتوں کے سامنے شادی کے معاہدے اوردستاویزات کے طریق کارکومنظم کرتی ہیں۔ یہ قانون شادی شدہ جوڑے میں طلاق کے طریق کارکی وضاحت کرتا ہے جو مشترکہ طورپریا یک طرفہ طورپرشروع کیا جاسکتا ہے۔اس میں طلاق کے بعد مالی دعووں کو حل کرنے کاطریق کاراوربچّوں کی مشترکہ تحویل کا انتظام وضع کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ، قانونِ وراثت اورعہد نامے(وصیّتوں) اورولدیت کے ثبوت کے لیے طریقِ کارکو منظم کرتا ہے۔دبئی میں الروضہ ایڈوکیٹس سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرحسن الہیس نے وضاحت کی کہ نیا قانون متحدہ عرب امارات میں غیر مسلموں پر شادی، طلاق، میراث، وصیت اور ولدیت کے ثبوت کے حوالے سے لاگو ہوگا جب تک کہ ان میں سے کوئی بھی اپنے ملک کے قانون پرعمل درآمد پر اصرارنہ کرے۔

مزید برآں،غیرمسلم غیرملکی اس قانون کی دفعات کے بجائے متحدہ عرب امارات میں خاندانی یا ذاتی حیثیت سے متعلق دیگرقوانین کے نفاذ پر راضی ہوسکتے ہیں۔

اس قانون کے مطابق، خواتین کوگواہ کی گواہی، وراثت، طلاق کے لیے دائرکرنے کا حق، اور 18 سال کی عمر تک بچوں کی مشترکہ تحویل کے سلسلے میں مساوی حقوق دیے گئے ہیں۔اس کے بعد، بچوں کو اپنے والدین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا حق حاصل ہوگا‘‘۔الہیس نے کہا۔اس کامطلب یہ ہے کہ عدالت میں عورتوں کی گواہی مرد کے برابرہوگی۔

انھوں نے وضاحت کی کہ تحویل کے حوالے سے گواہی کا یہ حق دونوں والدین کو یکساں طور پردیاجاتا ہے جب تک کہ والدین میں کوئی ایک بچے کے بہترین مفاد کی بنیاد پردوسرے فریق (ماں یا باپ) کو خارج کرنے کی درخواست عدالت میں پیش نہ کریں۔اس معاملے میں، دونوں والدین عدالت میں درخواست دائر کرنے کے اہل ہوں گے اور عدالت اس کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گی کہ بچّے کے لیےسب سے بہترکیا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ سول میرج معاہدوں کو اس قانون کے تحت تسلیم کیا جاتا ہے اوران شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے جن میں شریک حیات کی عمر کم سے کم 21 سال ہونی چاہیے اور جج کے روبرو ڈیکلیریشن فارم بھرنااور اس کی منظوری دینا شامل ہے۔

نئے قانون کے مطابق طلاق کاکیس دائرکرنے کے لیے ،ایک شریک حیات کو اپنی شادی کو ختم کرنے کی اپنی خواہش کے بارے میں عدالت کو مطلع کرنا ضروری ہے۔اسے ایسا دوسرے شریک حیات کو جواز، وضاحت یا الزام دیے بغیرکرنا ہوگا۔

دونوں میں سے کوئی ایک یہ ثابت کیے بغیرطلاق کی درخواست دائرکرسکتاہے کہ ان کی شادی کے دوران میں کوئی نقصان ہوا تھا۔

الہیس نے کہاکہ ’’اس قانون میں کچھ نمایاں تبدیلیاں یہ ہیں کہ اس نے ہجری کے بجائے گریگورین کیلنڈر کو اپنایا ہے اور طلاق کی صورت میں خاندانی رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت کو مسترد کردیا ہے‘‘۔

اس قانون میں ایک اوراہم تبدیلی یہ ہے کہ اب گزربسر کاحساب،کتاب کیا جائے گا اورکئی عوامل کی بنیاد پرفیصلہ کیا جائے گا۔اس میں شادی کے سال، دونوں میاں بیوی کی مالی حیثیت اور یہ کہ طلاق کا شوہرکتنا ذمہ دار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں