مراکش کے کھلاڑیوں کا اپنی ماؤں سے خصوصی تعلق، راز کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مراکش کی قومی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑیوں اور ان کی ماؤں کے درمیان تعلق قطر میں 2022 ورلڈ کپ کے سٹیڈیمز میں ایک عالمی کہانی میں بدل گیا ہے۔

مراکش کی قومی ٹیم کے سٹرائیکر زکریا بوفال نے ہفتہ کی شام کو صرف اپنی والدہ کا انتخاب کیا کہ وہ ان کے ساتھ سبز مستطیل میدان میں جائیں.

مراکش کی ٹیم نے فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فنائنل میں کوالیفائی کر کے ایک تاریخ رقم کی تھی اور یہ میدان اس جیت کا جشن منانے کی جگہ بن گیا تھا۔

ہر میچ میں مراکش کی قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی اپنی ماؤں اور باپوں کے ساتھ تعلق کی ایک کہانی نظر آتی ہے۔ نوٹ کیا گیا کہ جس مراکشی کھلاڑی نے بھی اپنی والدہ کو میدان میں اپنے قریب پایا وہ فائنل سیٹی بجنے کے بعد اسی کی طرف بھاگا جیسا کہ اشرف حکیمی نے متعدد مرتبہ یہی کیا۔ اسی طرح والد موجود ہوں تو کھلاڑی گرمجوشی سے ان کے گلے لگتے دکھائی دئیے جیسے یوسف نصیری نے سٹیڈیم میں ایسا ہی کیا تھا۔

مراکشی کھلاڑی زکریا بوفال اپنی والدہ کے ہمراہ جیت کا جشن مناتے ہوئے

اٹلس لائنز کے سٹارز کی بنیادی طور پر ماؤں کے ساتھ وابستگی بھی دنیا ہلچل مچانے والے انسانی پہلوؤں میں سے ایک پہلو ہے۔

اشرف حکیمی اور ان کی والدہ
اشرف حکیمی اور ان کی والدہ

یہاں مراکش کی قومی فٹ بال ٹیم کے کوچ ولید رکراکی کے تربیتی فارمولے کا ایک راز پنہاں ہے۔ وہ راز جذباتی چارجنگ ہے۔ اپنے وطن کی شرٹ کیلئے کھیلنے کے ساتھ ساتھ جب وہ کھلاڑی یہ بھی سمجھتا ہے کہ وہ بچپن میں اپنی ماں کی موجودگی کھیلنے کی طرح کھیل رہا ہے۔ اس سے اسے ایک اضافی حوصلہ مل جاتا ہے۔ یہ احساس انسانی بیٹری میں موجود جذبات کے سٹاک کو ختم نہیں ہونے دیتا۔

حکیم زیاش اور ان کی والدہ
حکیم زیاش اور ان کی والدہ

فوٹوگرافروں کے لینز نے مراکش کی قومی فٹ بال ٹیم کے کوچ ولید رکراکی کے قطر میں ورلڈ کپ کے فائنل سٹیڈیم میں سے ایک کے سٹینڈ پر اپنی والدہ کے ساتھ گرمجوشی سے گلے ملنے کو بھی فلمایا ہے۔

مراکشی کوچ ولید الرکراکی اپنی والدہ سے پیار لیتے ہوئے
مراکشی کوچ ولید الرکراکی اپنی والدہ سے پیار لیتے ہوئے

مراکش کی مقبول ثقافت میں ماں کو ایک اجتماعی ذہنی تصویر سے جوڑا جاتا ہے۔ اس ثقافت میں ماں کا بہت احترام کیا جاتا ہے، اس کے ہاتھ کو چوما جاتا، زندگی کے تمام پہلوؤں میں ماں کو ترجیج دی جاتی۔ مراکشی ثقافت میں خواتین خاص طور پر ماؤں اور دادیوں کی از حد تعریف کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ اٹلس لائنز کے متعدد ستاروں کی کامیابی کی سوانح عمری میں ان کی ماؤں کی تلخ جدوجہد بھی شامل ہے۔ ان ماؤں نے اپنے بچوں کو باوقار زندگی فراہم کرنے کے لیے یورپ کی طرف ہجرت کی۔ فٹ بال کے کھیل کو گیٹ وے بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اپنے بیٹوں کی مدد کی اور ان کا ہر طرح سے خیال رکھا۔

اس کے ساتھ ساتھ مراکش کی ان ماؤں نے بدترین حالات میں رہتے ہوئے بھی اپنے بچوں کو وطن کی محبت کا دودھ بھی پلایا۔ ان کے دلوں میں اپنی اصل مراکش کی محبت جگائی۔ یہی وجہ ہے یہ کھلاڑی اپنی مرضی سے مراکش کی قومی ٹیم کا انتخاب کرتے ہیں کیونکہ مراکش کی ماؤں نے جو ہجرت کی تھی تو بھی یورپ میں اپنے اصل وطن سے تعلق برقرار رکھا تھا اور یہ یہی ان کا بڑا اعزاز ہے۔

قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ فائنل کے سٹیڈیم میں مراکش کی ٹیم کے کھلاڑیوں نے بین الاقوامی کیمروں کے سامنے اعتراف کیا اور یہ بتلایا کہ اس کامیابی کے پیچھے ان کی ماں ہے۔ سٹیڈیم سے دور مراکش کی سڑک پر مراکش کے باشندے بھی اپنی ماؤں کے ساتھ مراکش کی ماں کا شکریہ ادا کرنے کیلئے نکلے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں