نیوزی لینڈ نے سکیورٹی کمانڈرز سمیت 22 ایرانی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نیوزی لینڈ نے پاسداران انقلاب اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے کمانڈروں سمیت 22 ایرانی عہدیداروں پر پابندیاں عائد کر دیں۔ ایرانی حکام پر نیوزی لینڈ کی پابندیوں میں اخلاقی پولیس کا سربراہ بھی شامل تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اتوار کو خبردار کیا تھا کہ مظاہروں کی وجہ سے بہت سے ایرانیوں کو پھانسی کا خطرہ ہے۔

احتجاجی تحریک سے منسلک پہلی پھانسی پر شدید بین الاقوامی رد عمل سامنے آیا تھا جس نے تہران کو ہلا کر رکھ دیا۔

اس سے قبل آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ آسٹریلوی حکومت ایران میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے جواب میں ایرانی حکومت کے افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کرے گی۔

وونگ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ آسٹریلیا 13 افراد اور دو اداروں پر پابندیاں عائد کرے گا۔ جن میں ایرانی اخلاقی پولیس، بسیج اور 6 ایرانی شامل ہیں جنہوں نے مہسا امینی کی موت کے بعد پھوٹنے والے مظاہروں کو دبانے میں حصہ لیا تھا

یاد رہے احتجاجی تحریک 16ستمبر کو شروع ہوئی اور تاحال جاری ہے۔ 8 دسمبر کو ایران نے مظاہروں میں شریک پہلے شخص کو پھانسی دیدی تھی جس کے بعد دنیا بھر سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

عدلیہ سے وابستہ ویب سائٹ "میزان آن لائن" نے کہا کہ محسن شکاری فسادی تھا جس نے 25 ستمبر کو تہران میں ستار خان سٹریٹ کو عبور کیا اور ایک سیکیورٹی اہلکار کو چاقو سے زخمی کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں