جرمنی کی جانب سے ایرانی مظاہرین کو پھانسی کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمن وزیر خارجہ اینا لینا بر بوک نے ایران میں زیر حراست احتجاجی مظاہرین میں سے ایک اور کو سر عام پھانسی دینے کے واقعے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ان ہتھکنڈوں سے ایران مظاہرین کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

جرمن وزیر خارجہ نے کہا یہ پھانسیاں لوگوں کو دھمکانے اور خوفزدہ کرنے کی کھلی کوشش کے مترادف ہیں۔ یہ پھانسیاں مظاہرین کو کسی جرم کی وجہ سے نہیں صرف اپنے رائے کے اظہار کے جرم میں دی جارہی ہیں۔

اینا لینا بربوک ان خیالات کا اظہار برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے پہلے بات کر رہی تھیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ یورپی یونین کی طرف سے ایران کے خلاف پابندیوں کی نئی قسط کا اعلان کیا جائے گا۔ کیونکہ ایران روس کو ڈرون طیاروں کی فراہمی کر رہا ہے۔

جرمن وزیر خارجہ نے کہا ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے پیکج میں ان لوگوں کو بطور خاص نشانہ بنایا جائے گا جو ایران میں پھنسیاں دینے میں ملوث ہیں۔ ان میں ایرانی پاسداران بطور خاص شامل ہوں گے۔ یہ پاسداران ہی ہیں جو ایرانی شہریوں کو دھمکا رہے ہیں اور نشانہ بنا رہے ہیں۔

دریں اثنا یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورسل نے کہا 'یورپی بلاک ایران پر بہت سخت پابندیاں لگائے گا اور ایرانی خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جہاں تک ممکن ہو گا حمایت کی جائے گی تاکہ پرامن احتجاج کو حق تسلیم کرایا جا سکے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں