عربی زبان کے عالمی دن کے موقع پر "اثرا" کے زیراہتمام ’موشحات‘ کے فن کی تقریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اندلس کے شاہکار کلاسیکی شاعری کی گونج کی باگشت میں شاہ عبدالعزیز سنٹر فار ورلڈ کلچر (اثرا) نے عربی زبان کا عالمی دن منایا۔ عرب زبان انسانیت کے ثقافتی تنوع کا ایک ستون ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں سے ایک ہے۔

’اثرا‘ نے رواں سال کے جشن کی ایک نمایاں خصوصیت کے طور پر ’موشحات‘ کے فن کو اجاگر کرنے کے لیے ایک تقریب منعقد کی۔جہاں اس فن کی ابتدا، اس کی ترقی کی تاریخ اور اس کی جمالیاتی تصویروں کا جائزہ لیا گیا۔ اس ادبی فن سے متاثر ہونے والے واقعات کے ایک گروپ کے قیام کے ذریعے جو مستند عربی ورثے کا حصہ ہے اور اندلسیوں کی ایجاد کردہ شاعری کی ایک صنف ہے پر روشنی ڈالی گئی۔ الظہران مرکز میں 12 دسمبر سے شروع ہونے والی یہ تقریبات 17 دسمبر 2022ء کو اختتام پذیر ہوں گی۔

ان تقریبات میں زائرین کے ساتھ ورکشاپس اور انٹرایکٹو پروگرامز کے ساتھ ساتھ منتخب عرب اور مقامی ادیبوں اور مصنفین کے لیے مکالمے کے سیشنز اور کتاب پر دستخط کرنے کے سیشنزاور میوزیکل پرفارمنسز شامل ہیں جو اندلس کے مشہور ترین موشحات کو پیش کرتے ہیں اور اس فن کو منظم کرنے والی اہم ترین شخصیات پر روشنی ڈالتے ہیں۔

عربی زبان کی ترقی

زائرین کے پاس پروگرام میں شرکت کے دوران عربی زبان کی ترقی سے آگاہی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا موقع ہوگا۔ کیونکہ عربی زبان صرف رابطے کا ایک ذریعہ نہیں ہے، یہ اپنے آپ میں ایک فن ہے اور عرب شناخت کا ایک لازمی عنصر ہے۔ یہ قرآن کریم کی زبان ہے جس نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں مذہبی اہمیت حاصل کر لی ہے۔اس نے اسلامی دنیا کی بصری ثقافت میں تحریر کو سب سے اہم عنصر بنا دیا ہے۔اس دورے میں عربی خطاطی کے فن کو اجاگر کیا گیا ہے جو کہ عربی زبان سے جڑے فنون میں سے ایک ہے۔ یہ اسلامی فن کے سب سے اہم عناصر ہیں جنہوں نے عربی زبان کو اس کے مختلف مراحل اور ذرائع سے ترقی دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

مکالمے کے سیشن کی میزبانی عراقی مفکر اور محقق ڈاکٹر عبداللہ ابراہیم اور ڈاکٹر محمد العمری کریں گے، جس میں موشحات کی ابتدا اور ان کی ساخت کے بارے میں گفتگو کی جائے گی۔ اس میں ڈاکٹرابراہیم کی کتاب "دی ٹریولز"[اسفار] پر دستخط کرنے کا سیشن بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ زائرین عراقی مصنف سعید الغانمی اور ڈاکٹر عدی الحربش کے ساتھ شاعرانہ اختراعات کے میدانوں میں بھی گفتگو کریں گے۔

عربی زبان میں عصری ناول کے اثرات

عربی زبان میں عصری ناول کے اثرات کے بارے میں گفتگو اس حقیقت پر ہوگی کہ زبان ایک زندہ، بدلتی ہوئی جاندار ہے جو تہذیبوں اور اختراعات کے حالات سے متاثر ہوتی ہے۔ جب کہ ہم عصر عربی ناول بیسویں صدی میں شائع ہوا، ناول نگار اس اہم سوال سے الگ تھلگ نہیں تھے کہ ہم کس سطح اور زبان کی قسم لکھیں گے؟ یہاں زبان نے اپنی پابندیاں اور معروضیت عائد کی، عصری ناول نے اپنے جدید آلات کے شروع ہوا۔ وقت نے الفاظ اور تاثرات پر اپنے متغیرات کو مسلط کیا۔ اس موضوع پر منصورہ عزالدین اور علاء احمد فرغلی اثرا سنیما میں بات کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں