مسک کے ٹویٹرکا نیا اقدام؛موادکاجائزہ لینے،معتدل بنانے والی ٹرسٹ اورسیفٹی کونسل ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ٹویٹرانکارپوریٹڈ نے اپنی ٹرسٹ اورسیفٹی کونسل کو ختم کردیا ہے۔یہ آزاد ماہرین پرمشتمل ایک گروپ تھا اور یہ کونسل مواد میں اعتدال پسندی کے امورپررہنمائی فراہم کرتی تھی۔اس کے متعدد ارکان نے چند روز قبل استعفا دے دیا تھا۔

کمپنی نے 2016 میں یہ مشاورتی گروپ تشکیل دیا تھا تاکہ پلیٹ فارم پر بچّوں کے جنسی استحصال، نفرت انگیز تقریر، ہراساں کرنے، خود کو نقصان پہنچانے اور دیگر مسائل سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔

پیر کے روز دیر گئے کونسل کے ارکان کو ٹویٹر کی جانب سے ایک برقی میل موصول ہوئی۔اس میں مضمون کی سطر میں لفظ’’شکریہ‘‘لکھاتھا۔اس میں انھیں مطلع کیا گیا تھا کہ اس گروپ کو ختم کیا جا رہا ہے۔

بلومبرگ نیوزکے مطابق اس خط میں کہاگیاہے کہ ’’جیساکہ ٹویٹر(پلیٹ فارم)ایک نئے مرحلے میں داخل ہورہا ہے، ہم اس بات کاازسرنوجائزہ لے رہے ہیں کہ ہماری مصنوعات اور پالیسی کی ترقی کے کاموں میں بیرونی بصیرت کو کس طرح بہتر بنایا جائے‘‘۔

ٹویٹر نے مزید کہا کہ ایپ کو’’محفوظ ، معلوماتی جگہ بنانے کے لیے کام پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے اور زیادہ جارحانہ انداز میں آگے بڑھے گااور اس مقصد کے حصول کے لیے آگے بڑھنے والے آپ کے خیالات کا خیرمقدم کرتا رہے گا‘‘۔

ایلون مسک نے اکتوبرمیں ٹویٹرکا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے کمپنی کی افرادی قوت میں بڑے پیمانے پرکٹوتی کی ہے۔اس میں اعتماد اورتحفظ کے ذمہ دار افراد بھی شامل ہیں۔بلومبرگ نے گذشتہ ماہ رپورٹ کیا تھا کہ بچوں کے جنسی استحصال کی نشان دہی اور اسے ختم کرنے کے لیے وقف ٹیم ان تبدیلیوں کی وجہ سے ختم ہو گئی ہے۔ ایلون مسک اپنے مواد کے فیصلے بھی خودکررہے ہیں،جس میں ان لوگوں کے اکاؤنٹس کی بحالی بھی شامل ہے جنھیں پہلے معطل کردیا گیا تھا۔

گذشتہ ہفتے کونسل کے تین ارکان نے کمپنی کی جانب سے نقصان دہ مواد کے پلیٹ فارم کی پولیس نگہداشت کی صلاحیت کے بارے میں خدشات پراپنے استعفے کا اعلان کیا تھا۔سابق ارکان نے ٹویٹر پر شیئر کیے گئے ایک بیان میں لکھا کہ 'تحقیقی شواہد سے یہ بات واضح ہے کہ ایلون مسک کے دعووں کے برعکس ٹویٹر کے صارفین کے تحفظ اورفلاح و بہبود میں کمی واقع ہو رہی ہے‘‘۔

آن لائن بچوں کے جنسی استحصال کے مواد سے نمٹنے پرتوجہ مرکوز کرنے والے غیرمنافع بخش ادارے ان ہوپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اورکونسل کے ایک رکن ڈینٹن ہاورڈ نے کہا کہ وہ اس بارے میں مشوش ہیں کہ اس اقدام کا پلیٹ فارم کے تحفظ سے متعلق کیا مطلب ہوگا۔

ہاورڈ نے کہا کہ ’’ انھوں نے برسوں جن بہت سے پرعزم افراد کے ساتھ کام کیا تھا،ان میں سے اکثرکو پہلے ہی برطرف کیا جاچکا ہے یا وہ خود چھوڑ کرچلے گئے ہیں۔اس کے بعد سے میں نے پلیٹ فارم پر بچّوں کے جنسی استحصال کوحل کرنے میں کوئی پیش رفت نہیں دیکھی ہے، حالانکہ مسک یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ان کی ترجیح ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’’یہ معاملہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے یہ کہنا کہ پردے کے پیچھے کچھ ہے اور میں آپ کو یہ نہیں بتاؤں گا کہ یہ کیا ہے یا آپ کو دکھاؤں گا کہ یہ کیا ہے۔مجھے یہ پسند آئے گا اگر وہ کوئی جادوئی فارمولہ لے کر آیا تھا جو ہر کسی سے بچ رہا ہے لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ شہنشاہ کے پاس کپڑے نہیں ہیں۔وہ ننگا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں