پھانسیوں سے ظاہر ہوتا ایرانی حکومت اپنے ہی لوگوں سے خوفزدہ ہے: امریکہ

رھنورد کو پھانسی ظالمانہ، ایرانی حکومت سزائے موت پر عمل روکے: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے پیر کے روز ایران کی جانب سے احتجاج میں شریک دوسرے کارکن کو پھانسی دینے کی شدید مذمت کی اور کہا ہے کہ یہ سزائے موت ظاہر کرتی ہے کہ ایرانی قیادت اپنے ہی لوگوں سے خوفزدہ ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا "یہ سخت سزائیں اور اب پہلی سر عام پھانسی کا مقصد ایرانی عوام کو ڈرانا ہے۔ اس کا مقصد اختلاف کو خاموش کرنا اور محض یہ ظاہر کرنا ہے کہ ایرانی قیادت اپنے ہی لوگوں سے کتنا خوفزدہ ہے۔"

ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ "میزان آن لائن" کے مطابق 23 سالہ مجید رضا رھنورد کو سکیورٹی فورسز کے دو ارکان کو چاقو سے قتل کرنے اور چار دیگر کو زخمی کرنے کے جرم میں مشہد میں سر عام پھانسی دی گئی تھی۔

16 ستمبر کو نوجوان ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کی موت کے بعد سے شروع احتجاجی مظاہروں کے بعد یہ کسی دوسرے احتجاجی کارکن کو دی گئی پھانسی تھی۔ اس سے قبل 8 دسمبر کو 23 سالہ محسن شکاری کو بھی پھانسی دی جا چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے رھنورد کی پھانسی کے ارد گرد کے حالات کو "انتہائی ظالمانہ" کہا اور ایرانی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ سزائے موت کے اطلاق کو روک دیں۔

پھانسیوں سے دنیا بھر میں غم و غصہ

احتجاجی کارکنوں کو پھانسی دینے کے خلاف ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا پیر کے روز ایران میں ایک نوجوان کو سرعام پھانسی دینے سے ایران کے عدالتی نظام کا پردہ فاش ہوجاتا ہے۔ ایرانی عدالتی نظام کو مظاہرین کے خلاف "جبر" اور انتقام کا آلہ ہے۔

تنظیم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایرانی حکام پر پھانسیوں کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔

مزید برآں ان پھانسیوں پر رد عمل میں یورپی یونین نے پیر کے روز ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن سمیت 20 ایرانی حکام اور اداروں کو تہران کے خلاف پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں