کنگ عبدالعزیز لائبریری "قہوہ " پر 400' سال قدیم نایاب مخطوطہ سامنے لے آئی

" تلخیص عمدۃ الصفوۃ فی حل القہوۃ‘‘ کے عنوان سے مخطوطہ میں عبد القادر بن محمد الانصاری الجزیری کی کتاب کا خلاصہ پیش کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری قہوہ پر 400 سال قدیم ایک نایاب مخطوطہ سامنے لے آئی ہے۔ یہ مخطوطہ لائبریری کے نجی مجموعوں میں محفوظ ہے۔ اس مخطوطے میں عبدالقادر بن محمد الانصاری الجزیری کی کتاب کا خلاصہ کیا گیا ہے۔ مخطوطہ کا عنوان " تلخیص عمدۃ الصفوۃ فی حل القہوۃ‘‘ ہے۔ یہ مخطوطہ شیخ علامہ مدین بن عبد الرحمٰن القوصونی، جن کا دور 1562 تا 1634 عیسوی ہے، نے تحریر کیا ہے۔

اصل کتاب کا نام ’’ عمدۃ الصفوۃ فی حل القہوۃ‘‘ ہے جو اصل میں شیخ علامہ احمد شہاب الدین بن عبد الغفار نزیل طیبہ مالکی کے افادات پر مشتمل ہے۔ کتاب کو کئی ابواب پر ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کا پہلا باب ’’ قہوہ کے معنیٰ میں‘‘ ہے۔ اس باب میں قہوہ کے پینے سے متعلق حلال اور حرام کے گرد گھومتے سوالات پر بحث کی گئی ہے۔

اس مخطوطہ میں کتاب کا خلاصہ بیان کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ مصنف نے قہوہ پینے کی اجازت دی ہے ۔ قہوہ ان طیب اشیاء میں سے ہے جن کو اللہ نے اپنے بندوں کیلئے حلال کیا ہے۔

" تلخیص عمدۃ الصفوۃ فی حل القہوۃ‘‘ کے مصنف شیخ مدین القوصونی نے اپنا مخطوطہ ان الفاظ سے شروع کیا ہے کہ میں نے اسے 8 جمادی الاخریٰ بروز اتوار کو لکھنا شروع کیا۔

مخطوطہ کے پہلے صفحہ پر عنوان کے بعد اللہ کی حمد اس طرح کی گئی کہ تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے اپنے بندوں کیلئے طیبات کو حلال کیا اور ان حلال اشیا میں جانور، پودے اور دھاتوں کو بھی شامل کیا اور انہیں میں سے قہوہ کو بھی بنایا جو خالص اخلاق والا ہے، ملاقات کے وقت محبوب ہوتا ہے، جدائی کے وقت بھی مطلوب ہوتا ہے اور مختلف طریقوں سے بڑے فوائد کا حامل ہے۔

اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہی بڑا بادشاہ اور بڑا پیدا کرنے والا ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد جو اشرف ترین انسان ہیں صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آقا ہیں، ان پر، ان کی آل پر اور صحابہ کرام پر درود نازل ہو ۔

حمد و صلوۃ کے بعد اپنے رب کی معافی کا طلبگار بندہ مدین بن عبد الرحمن جو دارالشفا مصر میں طبیب ہے کہتا ہے کہ یہ ایک اچھا تبصرہ اور بہتر سلسلہ ہے جو قہوہ کے متعلق کہا گیا ہے۔

آغاز میں حمد کے ذیل میں قہوہ کی تعریف کرنے کے بعد کتاب کے ٓآخر میں بھی قہوہ کی تعریف میں نظم پیش کی گئی ہے۔

اس نظم کا مفہوم کچھ یوں بنتا ہے۔ ’’میں ایک بھورا محبوب ہوں۔ میں کپوں میں رہتا ہوں، میری خوشبو عود ہندی ہے، میرا ذکر چین میں بھی مشہور ہے۔‘‘ ۔ نظم کے بعد مصنف نے کہا اس قدر بات کرنا اس کیلئے کافی ہے جو ہم خلاصہ کے طور پر کہنا چاہتے تھے۔

کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری کی طرف سے مخطوطہ کی رونمائی 2022 کو سعودی قہوہ کے سال کے طور پر منانے کے تناظر میں کی گئی ہے۔ سال منانے کا یہ پروگرام وزارت ثقافت نے شروع کیا ہے ۔ یہ سرگرمیاں سعودی ویژن 2030 کے تناظر میں سعودی شناخت، ورثے، رسوم و رواج اور اقدار کے فروغ کا ایک حصہ ہیں۔

عبدالقادر الجزیری کی پوری کتاب کئی ایڈیشنوں میں چھپ چکی ہے۔ ان میں ابوظہبی میں ثقافتی فاؤنڈیشن کا ایڈیشن (1996) اور ابوظہبی اتھارٹی فار کلچر اینڈ ہیریٹیج (2007) کا ایڈیشن معروف ہے۔

کتاب کی تلخیص کرنے والے عبدالقادر اپنے زمانے میں مصر کے چیف طبیب تھے۔ ان کی ادب اور تاریخ میں دیگر کتب بھی موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں