سعودی ویژن 2030

قریباً 80ہزارسعودی شہریوں کی شعبۂ سیاحت میں کام کے لیے تربیت مکمل

مملکت میں شعبہ سیاحت میں بالخصوص اورمعیشت میں بالعموم بے مثال نمو دیکھنے کو مل رہی ہے:احمد الخطیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی وزیرسیاحت احمدالخطیب نے کہا کہ مملکت میں شعبہ سیاحت میں بالخصوص اورمعیشت میں بالعموم بے مثال نمو دیکھنے کو مل رہی ہے۔انھوں نے مہمان داری کے شعبے میں کام کرنے والے اداروں، کارکنوں اور سرمایہ کاروں پر زوردیا ہے کہ وہ تیزرفتارپیش رفتوں کے ساتھ ہم آہنگ رہیں۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق وزیرسیاحت مملکت کے مختلف علاقوں سے مہمان نوازی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے 100 سے زیادہ کارکنان اور سرمایہ کاروں کے ساتھ ماہانہ اجلاس میں گفتگو کررہے تھے۔ اجلاس میں نائب وزیر سیاحت شہزادی حیفابنت محمد اور وزارت کے متعدد سینئر حکام بھی موجود تھے۔

انھوں نے اجلاس میں نشان دہی کی کہ وزارت نے اب تک 80,000 سعودی نوجوان مردوخواتین کی تربیت مکمل کی ہے۔وہ اب اس شعبے میں کام کرنے کوبالکل تیار ہیں۔اس کے علاوہ وزارت مختلف قسم کے اداروں اور افراد بالخصوص شعبہ مہمان نوازی میں کام کرنے والے سرمایہ کاروں کے ساتھ روابط کو بڑھانے کے لیے مختلف تکنیکی اختراعات کو اپنانے کی طرف بھی پیش رفت کررہی ہے۔

احمدالخطیب نے کہا کہ سیاحت کے نئے ضوابط کا مقصد اس شعبے میں جدت طرازی کو فروغ دینا ہے۔وزارت شعبہ سیاحت میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

وزیر کے مطابق سیاحت کے نئے قواعدوضوابط مملکت کی قیادت کی امنگوں اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی خواہشات کی دستاویزی شکل ہیں اوریہ شعبہ مملکت کے ویژن 2030 کے ستونوں میں سے ایک ہے۔سعودی قیادت قومی معیشت کو متنوع بنانے، اپنی غیرتیل معیشت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ 2030 تک سالانہ10 کروڑسیاحوں کی مملکت میں آمد اور انھیں اپنی طرف متوجہ کرنے کی منتظر ہے۔

انھوں نے مزید کہاکہ’’ہم مملکت میں شعبہ سیاحت کے قواعدوضوابط پرنظرثانی کررہے ہیں تاکہ قومی حکمت عملی کے اہداف کو حاصل کرنے کے مقصد سے گذشتہ تین سال میں جاری کردہ قوانین اورقواعدوضوابط کو مربوط بنایا جاسکے‘‘۔

انھوں نے اس شعبے کومقامی بنانے اور اس کی ترقی اور خوش حالی میں شہریوں کے کردارکو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ وزارت نے مقامی سیاحتی شعبے میں کام کرنے کے لیے 100،000 شہریوں کو تربیت دینے کے لیے 10 کروڑ70 لاکھ ڈالر(40 کروڑریال) مختص کیے ہیں۔ان میں 10،000 نوجوان مردوخواتین اس وقت مملکت سے باہرعالمی سطح پربعض انتہائی معتبرہوٹلوں اور سیاحتی تعلیم کے اداروں میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

احمدالخطیب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزارت سرمایہ کاری اور مہمان نوازی سے وابستہ افراد اور اداروں کے حقوق کے تحفظ،ان کا خیال رکھنے اور ان کی ترقی اور خوش حالی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں کسی تردد کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔

انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ وزارت نے مکہ مکہ اور مدینہ منورہ میں ضروریات کے حوالے سے لچک دار طرزعمل اپنایا ہے،بشمول مہمان نوازی کے یونٹوں کے سائزکو مقررکردہ معیاری تصریحات سے مختلف ہونے کی اجازت دی ہے۔

مہمان نوازی کی سہولیات کے معائنے کے حوالے سے الخطیب نےاس بات کی تصدیق کی کہ وزارت سیاحت بہترین بین الاقوامی معیارکویقینی بنانا چاہتی ہے اوراس شعبے کو بلند کرنے کے لیےاس پہلوکوبہت اہمیت دیتی ہے۔انھوں نے کہا کہ مہمان نوازی کی سہولتوں کے مالکان اور سرمایہ کاروں کوآیندہ تین ماہ کے دوران میں اپنے معاملات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں