ایرانی مظاہرے

ایران مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال بند کرے: یورپی سربراہی اجلاس

ایرانی حکومت سزائے موت پر عمل فوری روکے، مظاہرین کو دی گئی سزائیں منسوخ کی جائیں: یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین کے سربراہی اجلاس نے ایران سے ایک مرتبہ مطالبہ کیا ہے کہ حکمران مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال بند کریں۔ یورپی یونین نے مظاہرین کی سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

جاری بیان میں کہا گیا یورپی یونین گزشتہ ستمبر سے ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں کے سلسلے میں ایران میں جاری یا سنائی گئی حالیہ سزائے موت کی شدید مذمت کرتی ہے۔

العربیہ اور الحدث چینلز کی جانب سے حاصل کردہ مسودہ بیان میں کہا گیا کہ یورپی سربراہی اجلاس نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا کہ بغیر کسی تاخیر کے جاری کی گئی سزاؤں کو بھی منسوخ کر دیں۔

یورپی سربراہی اجلاس نے کسی بھی صورت میں دی گئی سزائے موت کی اپنی سخت مخالفت کا اعادہ کیا اور کہا کہ سزائے موت انسانی وقار کا انکار ہے۔

یورپی سربراہی اجلاس نے ایرانی حکام پر زور دیا کہ وہ پرامن احتجاج کو دبانے کے لیے خاص طور پر خواتین کے خلاف طاقت کا بلاجواز استعمال بند کریں۔

یاد رہے ایران میں جاری احتجاجی تحریک کو تین ماہ مکمل ہوگئے ہیں۔ 16 ستمبر کو حجاب نہ کرنے پر اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد اسی کی حراست میں مہسا امینی کی موت کے بعد سے ایرانی عوام حکومت کے خلاف شدید احتجاج کر رہے ہیں۔

اس تحریک کو دبانے کیلئے ایرانی حکومت نے مظاہرین پر تشدد کیا ہے۔ اب تک سنکڑوں مظاہرین کو قتل اور زخمی کر دیا گیا ہے۔ ہزاروں کو گرفتار کیا جا چکا۔ بعض کو سزائے موت سنائی گئی ہے جن میں سے دو کو پھانسی بھی دے دی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں