دنیا کا سب سے بڑا سلنڈر نما ایکویریم برلن کے ہوٹل میں ٹوٹ گیا

ایکویریم میں 15 سو مچھلیاں تھیں، ٹوٹنے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برلن کے ایک لگژری ہوٹل کی لابی میں ایک ایکویریم جس میں 15 سو عجیب و غریب قسم کی مچھلیاں تھیں جمع کے روز ٹوٹ کر بکھر گیا۔ ایمرجنسی سروسز کے عملہ نے بتایا کہ ایک ملین لٹر پانی بہ گیا اور علاقےکی بڑی سڑک پر اس کی وجہ سے کیچڑ ہوگئی۔

ایمرجنسی سروسز کے تقریباً 100 اہلکار فوری جائے وقوعہ پر پہنچنے۔ اس لگژی کمپلیکس میں ریڈیسن بلو ہوٹل، میوزیم، دکانیں اور ریستوراں موجود ہیں، ساتھ ہی ڈوم ایکویریم تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا فری سٹینڈ سلنڈریکل ایکویریم ہے اس کی لمبائی 14 میٹر تھی۔

برلن پولیس نے ٹویٹر پر کہا کہ "ناقابل یقین سمندری حیات کے نقصان کے علاوہ شیشے کے ٹکڑے لگنے سے دو افراد زخمی بھی ہوگئے۔

برلن فائر سروس کے ترجمان نے بتایا کہ ایمرجنسی سروسز کے اہلکار ملبے کے باعث عمارت کے گراؤنڈ فلور میں داخل نہیں ہو سکے۔ سرچ اینڈ ریسکیو کتوں کو جائے حادثہ پر بھیجا گیا ہے تاکہ ملبے تلے دبے لوگوں کو تلاش کیا جا سکے۔

پولیس اور ریسکیورز کے مطابق، مقامی وقت کے مطابق 5 بج کر 50 منٹ پر ایکویریم کے شیشے کی دیواریں ٹوٹ گئیں، وجوہات ابھی تک نامعلوم ہیں۔

ہوٹل خالی کرا لیا گیا

فائر سروس کے ترجمان نے بتایا کہ کمپلیکس کے اندر واقع ہوٹل میں موجود تقریباً 350 مہمانوں کو کہا گیا کہ وہ اپنا سامان باندھ کر عمارت سے نکل جائیں۔ پولیس نے بتایا کہ عمارت سے باہر جانے والے ہوٹل کے مہمانوں کو پناہ فراہم کرنے کے لیے بسیں کمپلیکس میں بھیجی گئیں، کیونکہ برلن میں درجہ حرارت منفی سات سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا۔

امدادی اہلکاروں کے ترجمان نے تصدیق کی کہ دھماکا فش ٹینک میں معمولی شگاف کی وجہ سے نہیں ہوا، بلکہ جو ہوا وہ "ٹینک کا دھماکہ" تھا۔

تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں، ممکنہ طور پر یہ ویڈیوز ہوٹل کے مہمانوں نے بنائی ہیں۔ ان میں دیکھا جا سکتا کہ تباہ شدہ فش ٹینک اور شیشے کے ٹکڑے بکھرے ہوئے ہیں۔

بحالی کا حالیہ کام

اخبار "بلڈ" نے بتایا ہے کہ دھماکہ بیسن کے کچھ حصوں میں ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں ہوا۔ اس ایکویریم کو 2.5 ملین یورو (2.66 ملین ڈالر) کی لاگت سے بحالی اور تزئین و آرائش کے بعد گزشتہ موسم گرما میں زائرین کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں