یوکرین میں شدید بمباری کے بعد یورپ کی "کریملن دہشت گردی" کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے یوکرین پر روسی بمباری کے بعد کریملن کی "اندھی دہشت گردی" کی مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرائم کا تسلسل قرار دیا۔

ایک حالیہ بیان میں انہوں نے کہا کہ"ان وحشیانہ اور غیر انسانی حملوں کا مقصد انسانی مصائب کو بڑھانا اور یوکرین کی شہری آبادی، ہسپتالوں، ہنگامی خدمات اور دیگر ضروری خدمات کو بجلی اور گیس سے بھی محروم کرنا ہے‘‘۔

جوزپ بوریل نے مزید کہا کہ "یورپی یونین اور اس کے شراکت دار ہنگامی امداد فراہم کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہے ہیں جس کی یوکرینی باشندوں کو بجلی اور حرارتی نظام کی بحالی کے لیے ضرورت ہے۔"

طویل جنگ

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے جمعہ کے روز ’اے ایف پی‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ روس یوکرین میں ایک طویل جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کے بعد نیٹو کے اتحادیوں کو اس وقت تک ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھنی چاہیے جب تک صدر ولادیمیر پوتین کو یہ احساس نہیں ہو جاتا کہ وہ جنگ جیتنے میں ناکام رہے ہیں"۔

روسی جنگ کے تقریباً 10 ماہ بعد یوکرین کی افواج نے کریملن کو کئی مقامات اور محاذوں پر شکست سے دوچار کرتے ہوئے ملک کے بڑے حصوں کو آزاد کراالیا لیکن اسٹولٹنبرگ نے زور دے کر کہا کہ "اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ پوتین نے یوکرین کو کنٹرول کرنے کے اپنے مقصد کو ترک کر دیا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں روس کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے۔ وہ ایک طویل جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ وہ مزید افواج کو متحرک کر رہا ہے اور بہت زیادہ نقصان اٹھانے کے لیے تیار ہے اور مزید ہتھیار اور گولہ بارود حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ صدر پوتین اس جنگ کو طویل عرصے تک جاری رکھنے اور نئے حملے کرنے کے لیے تیار ہیں۔

امریکا کی قیادت میں نیٹو ممالک نے یوکرین کو اربوں ڈالر کے ہتھیار فراہم کیے جس سے اسے روسی افواج کا مقابلہ کرنے میں مدد ملی۔

اسٹولٹن برگ نے مزید کہا کہ "یہ بہت ممکن ہے کہ یہ جنگ بھی زیادہ تر جنگوں کی طرح مذاکرات کی میز پر ختم ہو جائے۔ کسی بھی حل کو یقینی بنانا چاہیے کہ یوکرین ایک خودمختار اورآزاد ریاست رہے۔"

انہوں نے کہا کہ تیز ترین طریقہ یہ ہے کہ اس کی عسکری حمایت کی جائے۔ تاکہ صدر پوتین کو یہ احساس ہو کہ وہ میدان جنگ میں جیتنے سے قاصر ہیں اور انہیں اچھی نیت سے بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے۔

امریکی رپورٹس کے مطابق واشنگٹن کیئف کو موصول ہونے والے مغربی فضائی دفاعی نظام کے علاوہ سب سے جدید پیٹریاٹ میزائل بیٹریاں یوکرین بھیجنے کے منصوبے کو حتمی شکل دے رہا ہے۔

اسٹولٹن برگ نے کہا کہ پیٹریاٹ سسٹم کی فراہمی کے لیے "بات چیت" جاری ہے، لیکن اس بات پر زور دیا کہ نیٹو ممالک کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اب تک بھیجے گئے ہتھیاروں کو کام کرنے کے لیے گولہ بارود اور اسپیئر پارٹس کی وافر مقدار موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اتحادی اضافی نظام فراہم کرنے کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں، لیکن اس بات کی تصدیق کرنا تیزی سے اہم ہے کہ فراہم کیے گئے تمام سسٹم کام کر رہے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں