’قندورہ الفرقانی افریقا کا عروسی لباس جسے صدور کی بیگمات نے بھی زیب تن کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

"میرے شہر کی خوبصورتی اس شاہی لباس کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔" نرگس کرمچ نے مشرقی الجزائر میں معلق پلوں کے شہر "قسطنطین" میں مشہور خواتین کے روایتی لباس "جبہ الفرقانی" کے بار میں ان الفاظ میں تعریف کی۔

اس عروسی لباس کو کچھ لوگ جبہ الفرقانی یا "القندوریہ القسمطینیہ" بھی کتہے ہیں۔ سب سے پرتعیش اور مستند روایتی لباس ہے، کیونکہ یہ شہر قسطنطنیہ کی شناخت اور روح کی نمائندگی کرتا ہے۔

دلہن اسے اپنی شادی کے دن پہنتی ہےاور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے الجزائر کےسابق شاذلی بن جدید اور ھواری بومدین کی بیگمات نے بھی پہنا تھا۔ اس کے علاوہ لیبیا کے کرنل معمر قذافی کی اہلیہ نے بھی زیب تن کیا۔

یہ لباس سنہ2010ء میں تیار ہونے والی ٹی وی سیریز "میموری آف دی باڈی" [ذاکرۃ الجسد] میں بھی دکھایا گیا۔ یہ سیریز الجزائری مصنفہ احلام مستغانمی کے ناول پرتیار کی گئی۔ اس کی ہدایت کاری نجدہ اسماعیل انزور نے کی تھی، جس میں آرٹسٹ آمال بوشوشہ نے "جذبۃ الفرقانی" پہن رکھا تھا۔

مہنگا مگر موجود

خاتون صحافی نرگس جن کا تعلق قسطنطنیہ شہر سے ہے اپنے آفیشل فیس بک پیج پر ایک پوسٹ میں کہتی ہیں کہ یہ لباس "مہنگا ہے، لیکن دلہن کی تیاری کے وقت خاندان شاذ و نادر ہی اسے چھوڑتےہیں" کیونکہ "شوری" جو دلہن کا لباس اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔ اس میں اگر مخمل کی جیکٹ نہ ہو تو اس کا وزن کم ہو جاتا ہے، اسی لیے ہمیں ایسے خاندان ملتے ہیں جو لڑکی کی منگنی سے پہلے ہی سنہری دھاگوں سے اسے تیار کرلتے ہیں۔

جبکہ تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ ریشم کے دھاگے سے بنی "جلوہ" مرغاب 1450ء کے دور سے چلا آ رہا ہے اور اسے یہ نام اٹلی کے ایک علاقے کی مناسبت سے دیا گیا تھا جب وہاں دھوکہ باز پھیلے تو صنعت کار اپنی صنعت کے ساتھ فرانس کے شہر لیون فرار ہو گئے۔ یہ شہر اس وقت فرانس میں ٹیکسٹائل کی صنعت کا مرکز تھا۔

دلہن اور اس کے گھر والوں کے لیے جبہ فرقانی خوبصورتی کی علامت تھا اور اسے اس کے آلے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ اس لیے سب سے پہلے اس کی تیاری شروع کر دی جاتی ۔ اس کی تیاری میں کاری گروں کا کافی وقت لگتا۔

قندورہ کی تیاری کے عمل میں دو بنیادی مراحل ہوتے ہیں پہلا مرحلہ "الفراض" کہلاتا ہے۔ یہ آرٹ کا عمل ہے جس میں لباس کی خواتین کی پسند کے مطابق اس طرز کی شکلیں بنانا ہوتا ہے۔ اس کے بعد بہت نازک اور حساس مرحلہ ہوتا ہے جس میں قندورہ کی شکل کا تعین کیا جاتا ہے۔

یونیسکو میں شمولیت

الجزائر یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں خواتین کے اس روایتی لباس کو اپنی تمام مقامی اقسام میں شامل کرنے کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ یہ یونیسکو کی جانب سے سرکاری طور پر رائی کے کردار کو الجزائر سے تعلق رکھنے والے ثقافتی ورثے کے طور پر درجہ بندی کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

الجزائر کی وزارت ثقافت نے کہا ہے کہ قسطنطنیہ ایک شناخت، خوبصورتی اور تاریخ ہے۔

حال ہی میں نیشنل سینٹر فار ریسرچ ان پری ہسٹری اینتھروپولوجی اینڈ ہسٹری کے ڈائریکٹر مسٹر سلیمان حشی نے کہا کہ الجزائر کے مشرقی خواتین کے روایتی لباس کو غیر محسوس ثقافتی ورثے کی نمائندہ فہرست میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں