سعودی عرب میں عربی زبان کے قدیم ترین اور نایاب نسخے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کل اتوار کو شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے عربی زبان کے سائنس، ادب، فنون اور لغات سے متعلق نایاب عربی مخطوطات کی ایک خصوصی نمائش کا آغاز کیا۔ یہ نمائش اقوام متحدہ کی جانب سے عربی زبان کے عالمی دن کی تقریبات کے موقع پرمنعقد کی جا رہی ہے جو ہر سال 18 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔

اس نمائش میں عربی زبان سے متعلق مخطوطات کا نایاب ذخیرہ شامل ہے۔ ان میں ابو زید بن اوس الانصاری (215 ھ / 830ء) کی کتاب حکایات کا مخطوطہ بھی شامل ہے جو دنیا کے قدیم ترین اور نایاب نسخوں میں سے ایک ہے۔ اس کتاب میں ہزاروں نایاب، عجیب و غریب الفاظ سے متعلق ہے جو عربی لغوی جگہ میں معنی اور اظہار کے متعدد درجے تشکیل دیتے ہیں۔

نمائش کا مواد

لائبریری نے اپنی نمائش میں ابی نصر الجوہری کی مشہور لغت کا ایک مخطوطہ بھی رکھا ہے جو ’زبان کا تاج اور عربی کی آواز" جو عربی لغات میں سب سے قدیم ہے جسے ابواب ترتیب دیا گیا ہے۔ اس پر سنہ 591 ہجری لکھا گیا ہے۔

اس نمائش میں عربی زبان کے اسکالر ابو الفتح عثمان بن جنی الموصلی کا ایک قیمتی مخطوطہ بھی شامل ہے، جس کی نقل پانچویں صدی ہجری کے شروع کی ہے۔

یہ ایک ایسا حجم ہے جس میں متعدد ابواب شامل ہیں اور اسے اندلسی رسم الخط میں مویشیوں کی کھال میں لکھا گیا ہے۔

نایاب مخطوطہ کی تعداد 58 ہے اوراس کے بہت سے الفاظ کی شکل میں ترتیب دی گئی ہے۔ کچھ فقرے سیاہ روشنائی سے زیادہ چوڑے قلم سے لکھے گئے ہیں۔

القاموس المحیط

لائبریری میں فیروزآبادی کی کتاب (قاموس المحیط ) کے دو نسخے بھی دکھائے گئے ہیں۔ پہلا نسخہ 994ھ میں لکھا گیا تھا اور دوسرا نسخہ سنہ 977 ھ لکھا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں