ملائشیا:وزیراعظم انورابراہیم پارلیمان سےاعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ملائیشیا کے وزیراعظم انورابراہیم پارلیمان سے اعتماد کاووٹ لینے میں کامیاب رہے ہیں اور پارلیمان نے پیر کے روزاکثریت سے ان کے حق میں تحریک اعتماد منظورکرلی ہے۔

انورابراہیم نے اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کیا تھا جبکہ ان کے حریف اور سابق وزیراعظم محی الدین یاسین نے پارلیمان میں ان کی حمایت پرشکوک وشبہات کا اظہار کیا تھا۔

پارلیمان میں حزب اختلاف کی جانب سے اس کے خلاف دلائل دیے جانے کے بعد تحریک اعتماد سادہ صوتی ووٹ سے منظورکی گئی ہے کیونکہ انورابراہیم پہلے ہی بادشاہ کی جانب سے باضابطہ نامزدگی کے بعد وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھاچکے ہیں۔وزیرمواصلات فہمی فضیل نے کہا کہ ہمیں پارلیمان میں کافی اکثریت حاصل ہے اور یہ دوتہائی ہے۔

حزب اختلاف کے بلاک نے 222ارکان پرمشتمل پارلیمان میں ان قانون سازوں کی تعداد پر سوال اٹھایا تھاجنھوں نے انورابراہیم کی حمایت کی تھی۔حزب اختلاف کے رہ نما حمزہ زین الدین نے یہ دعویٰ کیا تھاکہ ’’وہ وقت آنے پراقتدار سنبھالنے کو تیار ہیں اور یہ کل، اگلے ہفتے یا اگلے انتخابات تک کسی بھی وقت ہو سکتا ہے‘‘۔

پچھترسالہانورابراہیم نے گذشتہ ہفتے چھوٹی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کرحکومت کی تشکیل کے معاہدے پر دست خط کیے تھے اوراس طرح اپنی حمایت کو مستحکم کرلیا تھا۔تمام فریقوں نے برسوں کی افراتفری کے بعد سیاسی استحکام کو یقینی بنانے، معیشت کی ترقی،اچھی حکمرانی کےفروغ اور نظم ونسق برقرار رکھنے پراتفاق کیا تھا۔

انورابراہیم ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں۔انھوں نے حزب اختلاف کی شخصیت کے طورپردو دہائی سے زیادہ عرصہ گزارہ ہے۔انھیں اس سے پہلے وزیراعظم کے عہدے سے انکار کردیا گیا تھا۔انھوں نے سابق وزیراعظم مہاتیرمحمد کے دور میں قریباً ایک دہائی جیل میں گزاری تھی جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف الزامات سیاسی محرکات پر مبنی تھے۔

گذشتہ ماہ ہونے والے انتخابات میں انور کے بلاک کو سادہ اکثریت حاصل نہیں ہوئی تھی لیکن انھیں ملائشیا کے بادشاہ نے وزیراعظم مقررکیا تھااورانھوں نے دیگر سیاسی بلاکوں کی مدد سے ایک مخلوط حکومت تشکیل دی تھی۔ملائشیا میں گذشتہ ماہ منعقدہ انتخابات کے نتیجے میں ایک معلق پارلیمان معرض وجود میں آئی تھی۔

ان کی قیادت میں نئی حکومت میں سابق حکمراں اتحاد بیرسن نیشنل بھی شامل ہے جس کے اقتدارکا تختہ الٹنے کے لیے انھوں نے اپنے سیاسی کیرئیر کا ایک طویل عرصہ گزارہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں