ایران مظاہرے

ایران میں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی تحقیقات کے لیے پاکستانی سمیت تین خواتین نامزد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ نے ایران میں خواتین کی قیادت میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن اور انسانی حقوق کی تحقیقات کے لیے تین خواتین کو نامزد کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سربراہ فیڈریکو ولگاس نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کی وکیل سارہ حسین، پاکستان کی قانون کی پروفیسرشاہین سردارعلی اور ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی کارکن ویویانا کرسٹیسیوچ ایران میں فیکٹ فائنڈنگ مشن کی آزاد ارکان ہوں گی۔

کونسل کی صدارت نے مزید کہا ہے کہ طویل عرصے سے انسانی حقوق کی سرگرم کارکن سارہ حسین ان تحقیقات کی سربراہ ہوں گی۔

ایران کی جانب سے ان تینوں خواتین کو ملک میں داخل ہونے اوراپنے مشن کو انجام دینے کی اجازت دینے کا امکان بہت کم ہے۔تہران نے بین الاقوامی تحقیقات کی تشکیل کی شدید مخالفت کی ہے۔اس کے لیے گذشتہ ماہ انسانی حقوق کونسل کے47 ارکان نے ووٹ دیا تھا۔

یہ تینوں خواتین ایرانی حکام کی جانب سے مظاہرین کے خلاف جبروتشدد کی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی ممکنہ خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دیں گی تاکہ ایران یا کسی اورجگہ ذمے دار حکام کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی کی جاسکے۔

واضح رہے کہ ایران میں 1979ء کے انقلاب کے بعد سے بڑے پیمانے پر بے مثال مظاہرے جاری ہیں اور یہ ایران کی مذہبی قیادت کے لیے ایک بڑاچیلنج بن چکے ہیں۔یہ مظاہرے ستمبرمیں ایرانی کرد خاتون مہساامینی کی پولیس کے زیرحراست ہلاکت کے ردعمل میں شروع ہوئے تھے اورپھر ملک بھرمیں پھیل گئے تھے۔اس دوران میں سکیورٹی فورسزنے مظاہرین کے خلاف پرتشدد کارروائیاں کی ہیں اوران کے درمیان بعض اوقات مہلک جھڑپیں ہوئی ہیں۔

22 سالہ متوفیہ امینی کو ایران کی بدنام زمانہ اخلاقی پولیس (گشت ارشاد)نے مبینہ طورپرحجاب پہننے سے متعلق ملک کے سخت قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتارکیا تھااوران کی موت کے بعد خواتین کے حقوق کے حق میں ملک بھرمیں احتجاجی تحریک پھیل گئی تھی۔

ایرانی حکام اب تک بعض مظاہرین کواحتجاج کی پاداش میں پھانسی دے چکے ہیں اوربعض کو ان فسادات میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔انھوں نے اپنے روایتی دشمن اسرائیل اور امریکا پران مظاہروں کی حوصلہ افزائی کا الزام عاید کیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی میں جلدبازی کی گئی ہے اور تشدد کے تحت اعترافی بیانات حاصل کیے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ ستمبر کے وسط سے اب تک ایران میں قریباً 14 ہزارافراد کو گرفتارکیا جا چکا ہے جبکہ اوسلو میں قائم غیرسرکاری تنظیم ایران ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 469 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں