برطانیہ: تارکین وطن کو جلداز جلد روانڈا ڈیپورٹ کرنے کا حکم

منصوبہ غیر اخلاقی اور انتہائی مہنگا ثابت ہوگا: ورکرز پارٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

برطانوی عدلیہ نے پیر کے روز ایک انتہائی متنازعہ منصوبے کے تحت غیر قانونی طور پر برطانیہ پہنچنے والے پناہ گزینوں کو روانڈا کی طرف نکالنے کی منظوری دے دی ۔ حکومت اس حکم کو جلد از جلد نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

کنزرویٹو نے غیر قانونی امیگریشن کا مقابلہ کرنے کو ترجیح دی ہے ۔ اس کا یہ اقدام بریکسٹ فریم ورک میں کیے گئے وعدوں میں سے ایک ہے۔

چھوٹی کشتیوں میں چینل عبور کرنے والے تارکین وطن کی تعداد حد سے زیادہ ہو جاتے ہیں۔ سال کے آغاز سے تقریباً 45 ہزار تارکین وطن انگلش ساحل پر پہنچ چکے ہیں۔ جبکہ 2021 میں یہ تعداد 28 ہزار 526 تھی۔۔

ایک نوعمر سمیت چار تارکین وطن 14 دسمبر کو سمندری چینل عبور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مر گئے، جس کے فوراً بعد 27 افراد اسی طرح کے حالات میں ہلاک ہوئے۔

استغاثہ کا موقف

گزشتہ اپریل میں سابق وزیر اعظم بورس جانسن کی حکومت نے کیگالی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا کہ پناہ کی تلاش میں آٰنے والوں خواہ ان کی قومیت کچھ بھی ہو کو برطانوی سرزمین پر ان کی غیر قانونی آمد کے بعد ملک بدر کردیا جائے ۔ اس پالیسی کا مقصد تارکین وطن کی چھوٹی کشتیوں میں چینل عبور کرنے کی حوصلہ شکنی کرنا تھا ۔ تاہم اس پر تنقید جاری تھی اور یہ معاملہ عدالتوں کا موضوع بنا ہوا تھا۔

ملک بدری کا عدالتی جائزہ

لندن ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاصے کے مطابق عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ برطانوی حکومت سیاسی پناہ کے متلاشیوں کو روانڈا بھیجنے اور ان کی درخواستوں کی جانچ برطانیہ کے بجائے روانڈا میں کرنے کی حقدار ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ برطانوی حکومت کی جانب سے طے کیے گئے اقدامات جنیوا ریفیوجی کنونشن کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔

پہلی پرواز کی منسوخی

ابھی تک تارکین وطن کا برطانیہ سے اخراج نہیں ہوا ہے ۔ اس حوالے سے پہلی پرواز جو جون کے لیے شیڈول تھی یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے اس فیصلے کے بعد منسوخ کر دی گئی تھی جس میں اس پالیسی کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ پیر کو برطانوی عدالت کے فیصلے کے جاری ہونے کے بعد موجودہ وزیر اعظم رشی سوناک کی حکومت پناہ گزینوں کو برطانیہ سے نکالنے کی رفتار کو تیز کرنا چاہتی ہے۔

برطانوی وزیر داخلہ نے "جلد از جلد" اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے اپنے ارادے پر زور دیا اورکہا میرا خواب ہے کہ میں تارکین وطن کو روانڈا جاتے ہوئے دیکھوں۔

وزیر نے زور دیا کہ ہم کسی بھی نئی عدالتی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے اپنے دفاع کے لیے تیار ہیں۔

فیصلے کے خلاف اپیل کا امکان

دوسری جانب عدلیہ نے وزارت داخلہ سے ان آٹھ تارکین وطن کے حوالے سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کو کہا جنہوں نے روانڈا میں ان کی بے دخلی پر اعتراض کیا تھا۔ عدالت نے پایا کہ وزارت داخلہ نے ان افراد کی ذاتی صورت حال کا مناسب طور پر جائزہ نہیں لیا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا ان کے مخصوص کیس میں کوئی ایسے عناصر موجود ہیں جو ان کی روانڈا ملک بدری سے متصادم ہوں۔

اس منصوبے کے مخالفین نے عدالتی فیصلے کو مایوسی اور غصے کے ساتھ قبول کیا۔

عدالت کے سامنے اس شکایت کے پیچھے انجمنوں میں سے ایک انجمن ’’کیر فار کیلیز‘‘ کے بانی نے پناہ گزینوں کو روانڈا بھیجے جانے سے روکنے کے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا ان کی انجمن اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

غیر انسانی اقدام

ایمپلائز یونین پی سی ایس (جس کی موجودگی خاص طور پر سرحدی پولیس کی صفوں میں ہے) نے حکومت کے اس منصوبے کو اخلاقی طور پر قابل مذمت اور بالکل غیر انسانی قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

"ریفیوجی کونسل" نے بھی اس پالیسی پر کڑی تنقید کی جو سلامتی کی تلاش میں نکلے لوگوں کو اشیا کے برابر قرار دیتی ہے۔ کونسل نے کہا اس پالیسی سے برطانیہ کی ساکھ نقصان پہنچے گا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ یہ گزشتہ ہفتے کے متاثرین کے بعد اشتعال انگیز ہے کہ حکومت یہ تسلیم کرنے سے انکار کردے کہ جن لوگوں کے پاس حفاظت کیلئے برطانیہ پہنچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ان کو نکالنا ان کو مزید ظلم کا شکار کرنے اور مزید خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

یہ بہت مہنگا ثابت ہوگا

برطانوی اپوزیشن کی لیبر اپوزیشن نے بھی اس منصوبے کو "غیر اخلاقی" اور "انتہائی مہنگا" قرار دے دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے اس معاملہ پر کہا کہ روانڈا میں ایک قابل اعتماد اور منصفانہ سیاسی پناہ کے نظام کے کم از کم اجزا تک موجود نہیں ۔ برطانیہ کی ملک بدری کی یہ پالیسی ان پناہ گزینوں کیلئے مزید خطرناک امکانات کا باعث بنے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں