کنگ عبد العزیز اونٹ فیسٹول کی تعریف میں یورپی مسافر بھی رطب اللسان

ساتواں ایڈیشن ’’ھمۃ طویق‘‘ کے عنوان سے صیاھد کے علاقے میں منعقد کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کنگ عبدالعزیز اونٹ فیسٹیول کے ساتویں ایڈیشن نے یورپی سیاحتوں کو بھی تعریف پر مجبور کردیا۔ ’’ھمۃ طویق‘‘ کے نعرے تلے اس تہوار میں عرب اور غیر ملکی وفود اور سفارتی مشنز کی شرکت میں اضافہ دیکھنے آ رہا ہے۔ اونٹ کلب نے اس عظیم تقریب کا انعقاد کرکے سعودی تاریخ اور اس کے ثقافتی ورثے اور جزیرہ نما عرب کے رہائشیوں کی زندگیوں میں اونٹ کے کردار سے آگاہی کا بہترین موقع فراہم کیا۔

یورپی مسافروں نے صیاھد کے علاقے میں فیسٹیول کے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے دوران تہوار کی سرگرمیاں دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا اور اسے اپنی زندگی کا انوکھا تجربہ قرار دیا۔ سوئٹزر لینڈ کی ماریٹا نے کہا صیاھد کے علاقے کا دورہ ایک انوکھا اور منفرد تجربہ ہے۔ اس سفر میں منفرد چیزیں تجربہ میں آئی۔ سفر کی پریشانی، صحرا کی سردی اور رات کی تاریکی بڑی معنی خیز ہے۔ دیکھنے والا یہاں اکیلا رہ کر اونٹ چرانے والے کا کردار ادا کر سکتاہے چرواہا بننا ایک الگ تجربہ ہے۔ اور صحرا کے وسط اس جگہ کے خاص جمالیا تی معنی ہیں۔ صحرا میں دیکھنے والا آسمان کو ایک منفرد انداز میں دیکھتا ہے یہ دیکھنا شہروں سے الگ نوعیت کا ہوتا ہے۔

اطالوی جوڑے ڈوجاکوئنٹو اور ویا کازلوسکیا اپنے بچوں کے ساتھ فیسٹول میں شریک ہوئے ۔ دونوں نے فیسٹول کی تعریف کی اور کہا اس ورثے کا مشاہدہ کرنے کیلئے ہم نے بہت زیادہ فاصلہ طے کیا۔ یہاں سعودی عرب میں گزارے گئے دن ہماری سب سے خوبصورت یاد بن گئے ہیں۔ یہ ملک ماضی، حال اور مستقبل کے ذہنوں کو اکٹھا کر رہاہے۔ اس عظیم تنوع اور شہری اور صنعتی تہذیب کو اس طرح کے قدیم ورثے نے مضبوط طریقے سے استوار کردیا ہے۔

سوئس جوڑے سٹیفن ریزر اور مینویلا ریزر نے کہا ہم اس ورثے میں یہاں کے باشندوں کی دلچسپی سے بہت متاثر ہوئے اور ہم نے ایک عظیم تنظیم دیکھی جو اس عالمی موقع کے حجم کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم صحرا اورصحرائی زندگی کا تجربہ کرنا چاہتے تھے اور یہاں آکر وہ ہمیں مل گئی۔ ہم اپنے دوستوں کو بھی اگلے سالوں میں یہاں آنے کی دعوت دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں