کویتی خاتون کے ہارٹ ٹرانسپلانٹ میں حصہ لینے والے سعودی سرجن نے کیا بتایا؟

ممالک کے درمیان تجربات کا تبادلہ بہت ضروری ہے: ڈاکٹر فراس خلیل کا ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب اور ریاست کویت کی ایک طبی ٹیم نے 60 کی دہائی کی عمر والے ایک کویتی شہری کے لیے دل کی پیوند کاری کا پہلا آپریشن کرنے میں تعاون کیا۔ یہ کویتی شہری دل کی تیز رفتار ناکامی میں مبتلا تھا اور اب اس پر علاج کارگر نہیں ہو رہا تھا۔ یہ آپریشن

کویت کے سلمان الدبوس سنٹر میں ہارٹ فیلئر پروگرام میں ورک ٹیم کے ساتھ۔ ڈاکٹر خلدون الحمود کی سربراہی میں کیا گیا۔ اس کے ساتھ اینستھیزیا ٹیم، نرسنگ سٹاف، کلینکل فارمیسی، امیونولوجی ڈیپارٹمنٹ، اور بحالی اور فزیو تھراپی شعبہ بھی تعاون کر رہا تھا۔

آپریشن کی تفصیلات

یہ آپریشن پروفیسر ریاض الطرزی نے کیا اور ریاض کے کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال میں کارڈیک سرجری کے چیف کے عہدے پر فائز سعودی ڈاکٹر فراس خلیل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو آپریشن کی تفصیلات بتائی ہیں ۔ ڈاکٹر فراس نے بتایا کہ اس طرح کے آپریشن دل کے چوتھے درجے کے مریض کے لیے کیے جاتے ہیں۔ اسے نس کے ذریعے دوائیں لینے اور دل کی خرابی سے نکلنے والے سیالوں سے نجات دلانے کے لیے کئی بار ہسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ دوائیں دل کے خون کی پمپنگ کو عارضی طور پر بڑھانے میں مدد دیتی ہیں۔

ڈاکٹر فراس خليل
ڈاکٹر فراس خليل

انہوں نے کہا کہ جب مریض چوتھے درجے پر پہنچ جاتا ہے جس کی علامات سے تشخیص ہوتی ہے۔ ایکسرے، لیبارٹریوں کے نتائج اور کیتھیٹرائزیشن کے ذریعے پلمونری شریان کے دباؤ کے نتائج، جسم میں خون کی تقسیم کو فالو اپ کرتے ہوئے اور دل کی ناکامی کے نتیجے میں گردے اور جگر کے افعال میں کمی کودیکھنے کے بعد مریض کو چوتھے درجے میں شمار کرلیا جاتا ہے۔ اس مرحلہ پر مداخلت کرکے دل کی ٹرانسپلانٹیشن ضروری ہوجاتی ہے۔ اسے دل کی پیوند کاری کی فہرست میں رکھا جاتا ہے، جب دماغی طور پر مردہ مریض کے لیے ایک مناسب دل دستیاب ہوجاتا ہے تو خون کی قسم اور قد، وزن اور اینٹی باڈیز کے لحاظ سے تناسب کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ تجزیوں اور الٹرا ساؤنڈ کے ایک سلسلے کے ساتھ یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ عطیہ کرنے والے کو دل کی کوئی بیماری یا دیگر بیماریاں تو نہیں ہیں۔

شرائط

ڈاکٹر فراس نے عطیہ کرنے والے اور وصول کرنے والے مریض کے دلوں کو ملانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ہی وقت میں دو مریضوں کو آپریشن روم میں لے جا کر عطیہ کرنے والے کے اعضا کو نکالنے کے لیے جدید ٹیم کے ذریعے کام کیا جاتا ہے۔ ڈونر اور مریض دووں کا سینہ ایک ساتھ کھولا جاتاہے۔ دل کی حفاظت کیلئے عطیہ کرنے والے کے دل کو نمکین محلول میں رکھا جاتا ہے۔

پہلی مرتبہ

اس قسم کے آپریشن میں کویت اور سعودی تعاون کے بارے میں انہوں نے کہا: یہ پہلا موقع ہے کہ اس قسم کے آپریشن کے لیے کویت کا دورہ کیا گیا ہے۔ جہاں تک کویت سے دل کے مریضوں کے فالو اپ کا تعلق ہے تو کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال فالو اپ کرتا ہے۔ کچھ مریض جو دل کی خرابی کا شکار ہوتے ہیں اور جنہیں صنعتی پمپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یا انہوں نے شمالی امریکہ یا یورپ میں مصنوعی دل کی ٹرانسپلانٹیشن کرائی ہوتی ہے، یہ مریض کنگ فیصل ہسپتال میں آتے ہیں۔ ان کو فالو اپ دیا جاتا ہے۔

پانچ گھنٹے

دل کی پیوند کاری میں شریک ڈاکٹر فراس نے پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مریضہ کا انحصار خون کو پتلا کرنے والوں پر تھا ۔ ایسی دوائیوں کی عدم موجودگی فلوائزر کی کارکردگی کو ظاہر کرتی ہے، اور مناسب وقت پر مناسب دل کے نہ ہونے یا خون پتلا کرنے سے متعلق طریقہ کارکے نہ ہونے بھی مشکلات ہوتی ہیں۔ مریضہ کو خون بہنے کے امکانات کا سامنا کرنا پڑا، یہ کام کرنے والی ٹیم کو درپیش سب سے اہم مشکلات میں سے ایک تھی ۔

آپریشن پانچ گھنٹے تک جاری رہا جس میں سے دو گھنٹے خون بہنے پر قابو پانے اور اسے جراحی اور طبی طور پر روکنے اور مریض کو خون کی مصنوعات کی منتقلی پر لگے۔

تجربات کا تبادلہ

انہوں نے کہا کہ ملکوں کے درمیان تجربات کا تبادلہ بہت ضروری ہے اور یہ کئی جدید طبی مراکز کے درمیان ہوتا ہے جن میں سب سے اوپر شاہ فیصل اسپیشلسٹ سینٹر ہے جس میں ایک تحقیقی مرکز بھی شامل ہے جو دل کی پیوند کاری اور صنعتی پمپس کا بہترین تجربہ رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں