امریکہ کی نئی اسرائیلی حکومت اور عرب ملکوں کے درمیان مارچ 2023 تک ملاقات کی تیاریاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے اسرائیل کی نئی حکومت کی تکمیل کے بعد عربوں اور اسرائیل کے درمیان نئی ملاقات کی تیاری شرروع کر دی ہے۔ امکانی طور پر یہ ملاقات 2023 کے شروع میں ممکن بنا لی جائے گی۔

یہ ضرورت انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی مدد سے تشکیل پاتی نیتن یاہو کی حکومت کی مدد کے لیے پیش آئی ہے۔

ایک امریکی ذمہ دار نے اس امکانی ملاقات کے لیے 2023 کے ماہ مارچ میں ہونے کا اشارہ دیا ہے۔ امکان ہے کہ اس ملاقات میں ان سب ملکوں نمائندے شرئک ہوں گے جو اسرائیل کو ساتھ معاہدہ ابراہم کے تحت تعلقات نارمل کر چکے ہیں۔

ان ممالک میں متحدہ عرب امارات، مراکش ، بحرین وغیرہ بھی شامل ہوں گے۔ امریکی ذمہ دار نے کہا ' سابق امریکی صدر ڈولنڈ ٹرمپ کو معاہدہ ابراہم کے پیش کار بنے تھے ان کے بہت پیارے نیتن یاہو بھی امکانی طور چاہتے ہیں کہ اس معاہدے کے تھٹ عربوں کے ساتھ تعلقات کا سلسلہ جاری رکھیں۔'

اس ذمہ دار کے مطابق ان عرب ملکوں کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھنے میں اسرائیل کا کردار اہم ہو گا،یہ اسرائیل ہو گا جس کے کچھ چیزوں کے بارے میں اقدامات کافی اہم ہوں گے۔ انہی اقدامت کی وجہ سے نارمل تعلقات والے ملک آگے بڑھیں گے اور دوسرے یا نئے ملکوں کو بھی ساتھ ملا سکیں گے۔'

واضح رہے متحدہ عرب امارات کا ابراہم معاہدے کے تحت آگے بڑھی تو اس وقت کی نیتن یاہو حکومت کا وعدہ تھا کہ وہ مغربی کنارے کو ساتھ ملانے کی کوشش نہیں کرے گی۔
ادھر امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی مغربی کنارے کے اسرائیل سے الحاق اور یہودی بستیوں کی توسیع کی مخالفت کی ہے اور انتباہ کیا ہے کہ ایسا نہ کیا جائے۔ نیز فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتی ہے۔ جوبائیڈن انتظامیہ ایسی سفارتی کوششوں کے بھی حق میں نہیں ہے جن کی کامیابی کے امکانات کم تر ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں