اوپیک پلس

اوپیک پلس اپنے فیصلوں میں سیاست کوملحوظ نہیں رکھتا:سعودی وزیرتوانائی

ہمارے جائزے اور پیشین گوئی میں سیاست نہیں ہوتی،ہم صرف مارکیٹ کے بنیادی اصولوں پرتوجہ مرکوز کرتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے وزیرتوانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان بن عبدالعزیز نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اوپیک پلس کے رکن ممالک فیصلہ سازی کے عمل، اپنے تخمینے اور پیشین گوئی میں سیاست کو خاطرمیں نہیں لاتے ہیں۔

انھوں نے یہ بات منگل کے روزسعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کو دیے گئے انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا:’’میں نے کئی باراس بات پرزوردیا ہے، اوپیک پلس میں ہم سیاست کو اپنے فیصلہ سازی کے عمل سے باہررکھتے ہیں، ہمارے جائزے اور پیشین گوئی میں سیاست نہیں ہوتی اور ہم صرف مارکیٹ کے بنیادی اصولوں پرتوجہ مرکوز کرتے ہیں‘‘۔

شہزادہ عبدالعزیزنے ایس پی اے کو بتایا کہ اس عمل سے ہمیں زیادہ معروضی انداز میں اور زیادہ وضاحت کے ساتھ حالات کا جائزہ لینے میں مدد ملتی ہے اور اس کے نتیجے میں ہماری ساکھ میں اضافہ ہوتا ہے۔

انھوں نے یوکرین کے بحران کوایک مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کے آغاز میں بعض نے تیس لاکھ بیرل یومیہ سے زیادہ کی مارکیٹ میں کھپت کم ہونے کے بڑے نقصانات کی پیشین گوئی کی تھی جس کی وجہ سے گھبراہٹ اورانتہائی عدم استحکام کی کیفیت پیدا ہوئی ۔اس وقت ، بہت سے لوگوں نے اوپیک پلس پرالزام عاید کیا تھا کہ وہ اس اتارچڑھاؤ کے پیچھے کارفرماہے اور بحران کا بروقت جواب نہیں دے رہا ہےلیکن ان متوقع نقصانات نے کبھی عملی جامہ نہیں پہنا تھا‘‘۔

انھوں نے اکتوبرمیں اوپیک پلس کے تیل پیداوارمیں کمی کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا اور بتایا کہ کس طرح اس پرشدید تنقید کی گئی تھی۔انھوں نے کہا کہ’’اوپیک پلس کے فیصلے کو’بہت خطرناک‘، 'بدقسمتی' کے طور پربیان کیا گیا تھا اور ایسی تجاویزبیان کی گئیں کہ یہ سیاسی محرکات پرمبنی ہے اور یہ کہ اس سے سیاست کی حوصلہ افزائی کی گئی تھی،یہ فیصلہ عالمی معیشت کو کساد میں پھینک دے گا اور ترقی پذیر ممالک کو نقصان پہنچائے گا مگرایک بار پھر، پس منظر میں اوپیک پلس کا فیصلہ مارکیٹ اور صنعت کے استحکام کی حمایت کے لیے صحیح ثابت ہوا‘‘۔

سعودی وزیرنے اعداد وشمار اورپیشین گوئی کو سیاسی بنانے اور اوپیک پلس اوراس کے مستحکم کردار کو بدنام کرنے کی کوششوں پرتنقید کی اورکہا کہ یہ رویہ’’صارفین کو مشتعل کرتا ہے اور مارکیٹ میں الجھن پیدا کرتا ہے اور بے قاعدگیوں اورگمراہ کن تشریحات کو جنم دیتا ہے ، یہ سب عوامل غیر ضروری عدم استحکام میں حصہ لیتے ہیں‘‘۔

انھوں نے مزید کہا:’’دن کےآخر میں، اعدادوشماراور پیشین گوئی کے ساتھ سیاست کھیلنے اور معروضیت کو برقرار نہ رکھنے سے اکثرالٹا اثر پڑتا ہے اور اس کےنتیجے میں ساکھ کا نقصان ہوتا ہے‘‘۔

وزیرنے اس بات پرزوردیاکہ اوپیک پلس کی حکمت عملی میں سرگرمی اورقبل ازوقت احتیاط مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔انھوں نے تیل برآمدکنندہ ممالک کی تنظیم اوپیک اورروس کی قیادت میں غیراوپیک ممالک پرمشتمل گروپ کے نقطہ نظر اور حکمت عملی کی ساکھ پربھی بات کی۔

ان کاکہناتھا کہ’’ساکھ کے بغیرمارکیٹیں ہر قسم کے شرکاء کے لیے زیادہ غیرمستحکم اور کم پرکشش بن جاتی ہیں۔تیل کی مارکیٹ بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔اوپیک پلس کے طور پر، ہم کسی بھی مارکیٹ کی صورت حال کو سنبھالنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ہم جتنے زیادہ قابل اعتماد ہوں گے، ہمارا کام مارکیٹوں میں استحکام لانے میں اتنا ہی آسان ہوگااور ہم جتنا زیادہ استحکام لائیں گے، ہماری ساکھ اتنی ہی زیادہ مضبوط اور تسلیم کی جائے گی۔ یہ ایک خوش کن چکرہے جسے اوپیک پلس معروضی اور اعلیٰ معیارکےتجزیے کے ذریعے اور مارکیٹ کے بنیادی اصولوں پر اپنی توجہ مرکوز رکھنے کے ذریعے برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں