سعودی عرب کادبئی بندرگاہ کی ترقی میں 2.4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب متحدہ عرب امارات میں ڈی پی ورلڈکے تین اہم منصوبوں میں 2.4 ارب ڈالر مالیت کے حصص خرید کررہا ہے۔

حسنہ انویسٹمنٹ کمپنی جبل علی پورٹ سمیت اثاثوں میں 10.2 فی صد حصص لے گی۔اس بندرگاہ کی بدولت ہی دبئی کو عالمی تجارتی مرکز میں تبدیل کرنے میں مدد ملی ہے۔ بدھ کے روز ایک بیان کے مطابق ،حسنہ جبل علی فری زون اور نیشنل انڈسٹریز پارک میں بھی حصص لے گی۔

یہ معاہدہ ڈی پی ورلڈ کی قرضوں کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے اوریہ کیس ڈی ڈپو ایٹ پلیسمنٹ ڈو کیوبیک کے اس اعلان کے چھے ماہ بعد سامنے آیا ہے کہ وہ مشرقِ اوسط کی سب سے بڑی بندرگاہ اور دو صنعتی زونزمیں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

سعودی عرب کی جنرل آرگنائزیشن برائے سوشل انشورنس کی سرمایہ کاری مینجر حسنہ نے، جو دنیا کے سب سے بڑے پنشن فنڈز میں سے ایک کی مالک ہے،مذکورہ تینوں کمپنیوں کےاثاثوں کی مالیت کا تخمینہ قریباً 23 ارب ڈالرلگایا ہے اوراس نے گذشتہ سال 1.9 ارب ڈالر کی پروفارما آمدنی پیدا کی تھی۔

ڈی پی ورلڈ کچھ اثاثوں میں ایکویٹی حصص کی فروخت کی تلاش میں ہےکیونکہ امارت دبئی قرضوں کے حجم کوکم کرنے کے لیے کام کررہی ہے۔قرضوں نے شہر کی ترقی میں مدد مہیا کی تھی۔دبئی نے 2020ء کے اوائل میں ڈی پی ورلڈ کونجی طورپرلیا تاکہ شپنگ فرم کو اپنے قرضوں کو بہتر طریقے سے منظم کرنے میں مدد مل سکے۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر سلطان احمد بن سلیمان نے کہا کہ ’’یہ لین دین ڈی پی ورلڈ گروپ کے لیے ایک مضبوط سرمایہ کاری گریڈ کی درجہ بندی حاصل کرنے کے ہمارے ہدف کی حمایت کرے گا‘‘۔

مسابقت

یہ نئی سرمایہ کاری متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت کے درمیان ہورہی ہے۔ خطے کی سب سے بڑی معیشت سعودی عرب زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور علاقائی کاروباراورلاجسٹکس کا مرکز بننے کی کوشش کررہاہے کیونکہ یہ اپنی تیل پر انحصار کرنے والی معیشت کومتنوع بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ عزائم اکثرمملکت کو دبئی کے خلاف کھڑا کرتے ہیں ،جو برسوں سے اس خطے کا تجارتی دارالحکومت رہا ہے۔

سعودی عرب عالمی تجارتی مرکزبننے کے اپنے منصوبوں کے ایک حصے کے طورپرچارکروڑ سے زیادہ ٹی ای یوکی سالانہ بندرگاہ کی صلاحیت کو نشانہ بنا رہا ہے۔ڈی پی ورلڈ پہلے ہی جدہ میں ایک بندرگاہ چلارہا ہے۔

حسنہ کے سی ای او سعد بن عبدالمحسن الفضلی نے کہا کہ ’’یہ شراکت داری خطے میں اہم بنیادی ڈھانچے کے اثاثوں میں سرمایہ کاری کے لیے ہماری توجہ اور حکمت عملی کو اجاگر کرتی ہے۔سازگار حالات اور میکرو اکنامک اشاریے علاقائی سطح پر ترقی کی رفتار کی حمایت جاری رکھیں گے ، جبکہ ایشیا اور افریقاکی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مابین تجارت بھی پھلنے پھولنے کی توقع ہے‘‘۔

حسنہ اس وقت 250 ارب ڈالر سے زیادہ اثاثوں کا انتظام کرتی ہے۔یہ جنرل آرگنائزیشن برائے سوشل انشورنس اور سعودی عرب کی پبلک پنشن ایجنسی کے انضمام سے معرض وجود میں آئی تھی۔اس اقدام کا مقصد اخراجات کو کم کرنا اور سرمایہ کاری کے فروغ میں مدد دیناتھا۔

اس فنڈمینجر کمپنی نے اپنی بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کی حکمت عملی کو فروغ دینے اور تیار کرنے کے لیے گذشتہ ماہ بلیک راک انکارپوریٹڈ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دست خط کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں