سعودی عرب کاطالبان سےافغان خواتین کی یونیورسٹی تعلیم پرپابندی ختم کرنے کامطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز افغانستان میں طالبان کے زیرانتظام حکومت کی جانب سے طالبات کی یونیورسٹی تعلیم تک رسائی معطل کرنے کے فیصلے پرافسوس کا اظہار کیا ہے اور طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پابندی کو واپس لیں۔

وزارت نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ طالبان کی جانب سے خواتین کی جامعہ کی سطح پرتعلیم پر پابندی افغان خواتین کو ان کے مکمل قانونی حقوق دینے کے منافی ہے۔ان میں سب سے اہم تعلیم کا حق ہے کیونکہ تعلیم ہی افغانستان اوراس کے برادر لوگوں کے لیے سلامتی، استحکام، ترقی اور خوش حالی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

طالبان نے منگل کے روز طالبات کے لیے یونیورسٹیوں تک رسائی معطل کردی ہے۔غیرملکی حکومتوں نے ان کے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور خود طالبان انتظامیہ کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کی کوششوں کو پیچیدہ بنادیا ہے۔

اقوام متحدہ، غیر ملکی حکومتوں اور انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے اس اقدام پردرج ذیل رد عمل سامنے آیا ہے:

ترجمان اقوام متحدہ:

اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’یہ ایک اور بہت ہی پریشان کن اقدام ہے اور یہ تصورکرنا مشکل ہے کہ خواتین کی فعال شرکت اور خواتین کی تعلیم کے بغیر ملک کس طرح ترقی کرسکتا ہے اوران تمام چیلنجوں سے نمٹ سکتا ہے جو اسے درپیش ہیں‘‘۔

امریکی وزیرخارجہ

انٹونی بلینکن نے کہا کہ انھیں طالبان کی جانب سے خواتین کو یونیورسٹی کی تعلیم کے حق سے محروم کرنے کے اعلان پر شدید مایوسی ہوئی ہے۔افغان خواتین بہتر کی مستحق ہیں۔افغانستان اس سے بہتر کا مستحق ہے۔

انھوں نے کہا کہ طالبان نے بین الاقوامی برادری سے خود کوتسلیم کیے جانے کے اپنے مقصد کو یقینی طور پر پیچھے چھوڑدیا ہے۔

قطری وزارتِ خارجہ

قطرنے افغان نگراں حکومت کی جانب سے جامعات میں لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم معطل کرنے کے فیصلے پر گہری تشویش اور مایوسی کا اظہارکیا ہے۔

قطری وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ایک مسلم ملک کی حیثیت سے جہاں خواتین کو ان کے تمام حقوق حاصل ہیں، خاص طور پر تعلیم، قطر کی ریاست افغان نگراں حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ خواتین کے حقوق سے متعلق اسلامی مذہب کی تعلیمات کے مطابق اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

جرمن وزیرخارجہ انالینا بیربوک

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں لڑکیوں اورخواتین کے مستقبل کرتاریک کرنے کے ذریعے طالبان نے اپنے ہی ملک کے مستقبل کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں اس معاملے کو کل جی سیون کے ایجنڈے میں رکھوں گی۔ طالبان خواتین کوپوشیدہ رکھنے کی کوشش کرسکتے ہیں، لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوں گے، کیونکہ دنیا دیکھ رہی ہے۔

برطانوی سفیرباربرا ووڈورڈ

اقوام متحدہ میں برطانوی سفیرباربراووڈورڈ نے کہا کہ یہ خواتین کے حقوق پرایک اور سنگین قدغن ہے اور ہر ایک طالبہ کے لیے گہری مایوسی کی مظہرہے۔ یہ طالبان کی جانب سے خود کفیل اورخوش حال افغانستان سے دوری کا ایک اور قدم بھی ہے۔


کینیڈی وزیرخارجہ

کینیڈاکی وزیرخارجہ میلانیا جولی نے کہا کہ طالبان طالبات کو یونیورسٹیوں میں داخلے سے روک رہے ہیں اورانھیں بہتر زندگی کے امکانات سے محروم کررہے ہیں۔ تعلیم کی تمام سطحوں تک مساوی رسائی ایک ایسا حق ہے جس کی ہرعورت اورہرلڑکی حقدار ہے۔ہم اس گھناؤنی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہیں۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ

ہم اس بات میں پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ہر مرد اور عورت کو اسلام کے احکامات کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کا فطری حق حاصل ہے۔ہم افغان حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنے اس فیصلے پرنظرثانی کریں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل ایگنیس کالامارڈ نےاپنے ردعمل میں کہا کہ ’’یہ نفرت ہے، تشدد کا ایک اور اظہار عورتوں پر مردوں کی طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے ہے، خواتین کو تھوڑی سی ہواکے بغیرجگہ میں رکھنے کے لیے۔طالبان افغانستان کے بارے میں یہی کررہے ہیں۔وہ اپنے ملک کو عورتوں کے لیے ایک جیل بنا رہے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں