پابندیوں کے باوجود انسانی بنیادوں پر امداد جاری رکھنے کے لیے کوششیں شروع کر دی گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ نے دوسرے ملکوں پر عاید کردہ پابندیوں کے باوجود انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد کی فراہمی ممکن بنانے کا راستہ بنانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں،یہ کوششیں اقوام متحدہ کی طرف سے حالیہ دنوں میں اس سلسلے میں اعلان کیے گئے استثنا کے بعد شروع کی گئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسی ماہ یہ معاملہ زیر بحث آیا تھا۔ کہ پابندیوں کے باوجود انسانی بنیادوں پر امداد کے جاری رکھنے کا راستہ نکالا جائے۔ کیونکہ انتہائی سخت پابندیوں کی وجہ سے اقوام متحدہ کے ریلیف مشنشز کا کام جاری رکھنا ممکن مشکل ہو گیا ہے۔

اس بارے میں اقوام متحدہ کے کام کرنے والے مختلف گروپوں نے بھی شکایت کی تھی۔ اس شکایت کے بعد سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایک مجموعی استثنا کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ یہ ایک اصول بنا لیا جائے کہ کسی بھی ملک پر عائد کردہ پابندیاں وہاں انسانی بنیادوں پر بھجوائی جانے والی امداد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گی۔۔۔

اس سے قبل یہ طریقہ رائج تھا کہ ہر جگہ کی ضروریات کو الگ سے اور ' کیس ٹو کیس' کے انداز میں دیکھ کر ضروری سمجھا جاتا تو انسانی بنیادوں پر پابندیوں کے باوجود امداد بھیجنے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔

امریکی محکمہ خزانہ نے بھی اس سلسلے میں تصدیق کی ہے کہ وہ سلامتی کونسل کے فیصلے کے مطابق معاملات کا جائزہ لے رہا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے غیر ملکوں میں اثاثوں کو ڈیل کرنے والے شعبے کی ویب سائیٹ کے مطابق امریکہ انسانی بنیادوں پر کی جانے والی امداد کے حوالے سے 'کمٹڈ' ہے اس لیے نرمی کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے بھی اپنے ایک الگ سے دیے گئے بیان میں اس امر کا اظہار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں