سعودی عرب میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور تخلیقی کام کی ترقی کے پروگرام کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دانشورانہ حقِ املاک کے ماحولیاتی نظام کی تخلیق، جدت طرازی اور تخلیقی صلاحیتوں پر مبنی معیشت کے فروغ کے لیے ایک نیا پروگرام شروع کیا ہے۔

نیشنل انٹلیکچوئل پراپرٹی اسٹریٹجی (این آئی پی ایس ٹی) کے نام سے یہ نظام مبیّنہ طورپرمملکت کے ویژن 2030 کے مقاصد کے حصول میں کردارادا کرے گا۔

سعودی ولی عہد نے اس کے افتتاح کے موقع پرکہا ہے کہ اس پروگرام سے سعودی عرب ایک مربوط انٹلیکچوئل پراپرٹی ایکوسسٹم پر مبنی علمی معیشت کے لیے ایک متحرک ماحول بن جائے گا۔یہ جدید ٹیکنالوجیز اور صنعتوں کو فروغ دے گا اور کاروباری اداروں کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ "نیشنل انٹلیکچوئل پراپرٹی اسٹریٹجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے، اعلیٰ معیار کی ملازمتیں پیدا کرنے اور تخلیق کاروں اور جدت طرازوں کے حقوق کے بارے میں شعوراجاگر کرے گی‘‘۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس نظام کو چار ستونوں میں تقسیم کیا گیا ہے: آئی پی تخلیق، آئی پی ایڈمنسٹریشن، آئی پی کمرشلائزیشن، اور آئی پی پروٹیکشن۔آئی پی کے تحفظ کے ستون سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ’’دانشورانہ املاک کے حقوق کا احترام کرے گا اور تخلیقی حقوق کے تحفظ کی قدر میں اضافہ کرے گا‘‘۔

توقع ہے کہ این آئی پی ایس ٹی اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچرمیں حصہ ڈالے گااور دا لائن اور نیوم کے بڑے منصوبوں کو باہم مربوط کردے گا۔این آئی پی ایس ٹی سے متعلق فیصلہ سازی میں وقتاًفوقتاً نتائج ، پیش رفت اورمدد کے لیے سرکاری ایجنسیوں کا انتخاب کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں