افغانستان وطالبان

طالبان کی جامعات میں لڑکیوں کی تعلیم پرپابندی کے بعد طلبا کا طالبات سے اظہار یکجہتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان میں طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے خلاف طالب علموں کا ایک جرات مندانہ اقدام سامنے آیا جس پر طالبات بھی ان کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکیں۔

مشرقی افغانستان میں ننگرہار یونیورسٹی کی فیکلٹی آف میڈیسن کے طلباء نے طالبان کی جانب سے طالبات کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم کو روکنے کے فیصلے کے خلاف احتجاجاً امتحانی پرچے پھاڑ دیے اور ہال چھوڑ دیے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک ویڈیو کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ طلباء کے اس جرات مندانہ احتجاج پر طالبات نے ان کا شکریہ ادا کیا۔

افغان طالبان نے افغان خواتین پر مزید پابندیوں کی جانب ایک نئے قدم میں منگل کو لڑکیوں کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔

وزارت تعلیم کے ترجمان حافظ ضیاء اللہ ہاشمی نے بیان میں تصدیق کی کہ "وزارت اعلیٰ تعلیم نے ملک کی تمام سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ لڑکیوں کے لیے اعلیٰ تعلیم تا اطلاع ثانی ممنوع ہے۔"

یہ پابندی لڑکیوں کے لیے یونیورسٹی سے پہلے کی تعلیم پر پابندیاں عائد کرنے اور خواتین کے دارالحکومت کابل کے پارکوں یا سوئمنگ پولز اور جموں میں داخلے پر پابندی کے بعد سامنے آئی ہے۔

اقوام متحدہ نے گذشتہ ماہ ایک بیان میں کہا تھا کہ طالبان تحریک کے ڈی فیکٹو حکام کے حالیہ اقدامات جو خواتین اور لڑکیوں کو نشانہ بناتے ہیں ان کے انسانی حقوق اور آزادیوں کی صریح خلاف ورزیوں کا واضح ثبوت ہیں۔

اقوام متحدہ نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کی تمام بین الاقوامی ذمہ داریوں اور افغانستان پر عائد کردہ وعدوں کی پاسداری کریں۔ انسانی حقوق کے ان معیارات کو مکمل طور پر نافذ کریں جنہیں افغانستان نے آزادانہ طور پر قبول کیا ہے۔لڑکیوں کو تعلیم اور ملازمت کے حقوق فراہم کریں اور انہیں ثقافت اور عوامی زندگی میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کریں۔ تاہم طالبان حکومت نے امریکا اور دوسرے اداروں کی طرف سے مطالبات مسترد کردیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں