قرآن مجید کی تلاوت کرتے رقص پر عوام میں غصہ، مشہور مصری قاری کو معطل کردیا گیا

تحقیقات کیلئے معاملہ پبلک پراسکیوشن آفس کے سپرد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں سوشل میڈیا پر اس وقت غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی جب ایک مشہور قاری کو تلاوت کرتے ہوئے رقص نما حرکتیں کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد قراء کرام کی سنڈیکیٹ نے اس قاری کو معطل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

وائرل ہونے والے ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشہور قاری اپنے ہاتھوں اور جسم سے رقص جیسی عیب دار حرکتیں کر رہا ہے۔ کلام مقدس کی سورہ شوریٰ کی تلاوت کے دوران کی جانے والی ان حرکتوں سے اللہ تعالی کے کلام کا وقار اور تقدس مجروح کیا گیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اسے قرآن مجید کی بے ادبی قرار دیا ۔ ٹوئٹر پر یہ مطالبہ زور پکڑ گیا کہ اس قاری کے دوبارہ تلاوت کرنے پر پابندی لگائی جائے اور اس کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے۔

واقعہ کی تحقیقات

مصر میں قرآن کریم کے قرآء کرام اور حفاظ کرام کی سنڈیکیٹ نے ایک بیان جاری کیا اور کہا کہ اس قاری کی تلاوت پر پابندی لگائی جائے گی اور اسے تحقیقات کے لئے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کیا جائے گا۔

یہ تلاوت ریڈیو پر بھی پیش کی گئی تھی۔ سنڈیکیٹ نے مصری ریڈیو کے سربراہ اور ریڈیو میں مذہبی منصوبہ بندی کے سربراہ کو مذکور قاری کے خلاف ضروری اقدامات کرنے کا کہا اور پبلک پراسیکیوشن کو مطلع کرنے کے لیے معاملہ قانونی مشیر کو تفویض کرنے کی بھی ہدایت کی۔

سنڈیکیٹ نے اعلان کیا کہ بغیر علم کے تلاوت کرنے یا پڑھنے کی دفعات کی خلاف ورزی کرنے پر 6 قاریوں کے خلاف پہلے قانونی اقدامات کیے گئے تھے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سنڈیکیٹ ایسے فاسق قراء کے خلاف قانونی اقدامات جاری رکھے گی جن کے لیے مشورے اور رہنمائی کے طریقے کارگر نہیں ہو رہے۔

یاد رہے جس قاری کو معطل کیا گیا وہ مصر کے مشہور قاریوں میں سے ایک ہے اور وہ مصری سیٹلائٹ چینلز پر نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران نمودار ہوا تھا اس کے 3 بیٹے بھی تلاوت قرآن کے حوالے سے ہی جانے جاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں