مصر میں ایک سال میں 2584 خودکشیاں، جامعہ الازہر نے وجوہات بتا دیں

گھریلو تشدد، الیکٹرانک بلیک میلنگ، مذہبی عقائد کی کمزوری اور سخت حالات زندگی 4 اہم وجوہات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مصر میں مختلف طریقوں سے خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ خودکشی کیلئے کسی نے زہریلا دانہ کھایا، کسی نے بالائی منزل سے چھلانگ لگائی ، کسی نے دریائے نیل میں ڈوب کر موت کو گلے لگایا۔

خودکشی کرنیوالوں میں زیادہ نوجوان شامل

مصری وزارت صحت کے سیکرٹریٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ ایڈکشن ٹریٹمنٹ کی طرف سے تیار کردہ ایک مطالعہ کے مطابق سیکنڈری سکول کے 29.2 فیصد طلباء نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں، ان میں سے 21.7 فیصد خودکشی کے بارے میں سوچتے ہیں، اٹارنی جنرل کے دفتر کے جاری اعدادوشمار مصر میں 2021 کے دوران 2584 خودکشیاں دیکھنے میں آئیں۔

سنٹرل ایجنسی فار پبلک موبلائزیشن اینڈ سٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ تین سالوں کے دوران سب سے زیادہ خودکشی کرنے والے نوجوان تھے خاص طور پر وہ لوگ جو اپنی زندگی کی دوسری اور تیسری دہائیوں میں تھے۔

اپنی تازہ ترین رپورٹ میں الازہر آبزرویٹری نے بتایا کہ بہت سی وجوہات ہیں جو معاشرے کے بعض افراد کو خودکشی پر مجبور کر سکتی ہیں۔

گھریلو تشدد

الازہر نے کہا کہ ان میں سے سب سے اہم سماجی اور خاندانی مسائل ہیں کیونکہ بہت سی خودکشیاں دباؤ اور سماجی مسائل کی وجہ سے ہوئیں جو بچوں کے ساتھ سلوک میں خاندانی نظام کے عدم توازن کے نتیجے میں ہوئیں۔ بچوں کے مسائل سے نمٹنے میں ان پر سختی کی جاتی ہے۔ ان کی رہنمائی میں تشدد اور سختی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ تعلیمی مراحل میں ان پر دباؤ ڈالنے کے مختلف طریقے یکساں طور پر استعمال کئے جاتے ہیں اور اس دوران ہر طالب علم کی مختلف تفہیم کو مدنظر رکھا نہیں جاتا۔

اس طرح کے سلوک کے بچوں کے لیے سنگین منفی نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ بچوں میں خود اعتمادی کی کمی، ڈپریشن اور مہلک مایوسی آجاتی ہے۔ ناکامی یا ناکامی کا خوف اسے خودکشی کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ معاشرے کے سب سے اول مرکز کے طور پر خاندان کو اپنے بچوں کا سب سے پہلا تعلیمی ادارہ بننا ہوتا ہے۔ خاندان کی سب سے بڑی ذمہ داری اپنے بچوں کو اخلاقی اور نفسیاتی مدد فراہم کرنا ہوتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اعلی تعلیم میں عبور حاصل کرنے میں ناکام رہنے والے اپنے بچوں کیلئے ایسے ہنر اور دیگر صلاحیتوں کو تلاش کریں جس سے یہ بچے اپنی ناکامی کو ناکام بنا ڈالیں۔

الیکٹرانک بلیک میلنگ

خودکشیوں کے پیچھے دوسری بڑی وجہ الیکٹرانک بلیک میلنگ اور بھتہ خوری ہے - الازہر آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک بھتہ خوری، خاص طور پر لڑکیوں کے لیے گزشتہ برسوں میں کچھ خودکشیوں کا سبب بنی ہے۔ متاثرہ کو تصاویر یا ویڈیو کلپس شائع کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ اس کے بارے میں ذاتی ڈیٹا یا معلومات کو لیک کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ لڑکی خودکشی کو اس بحران سے نکلنے کا واحد راستہ سمجھتی ہے۔

لڑکیوں کو نصیحت کرتے ہوئے الازہر نے کہا کہ خودکشی ایسے مسائل کا حل نہیں ہے۔ بلکہ ایسی صورتحال میں بلیک میلنگ کے شکار فرد کو خاندان کو اعتماد میں لیکر ان بھتہ خوروں کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔

مذہبی عقائد کی کمزوری

جہاں تک خودکشی کے پیچھے تیسری وجہ کا تعلق ہے تو الازہر نے بتایا کہ مذہبی عقائد کی کمزوری ، اخلاقی گراوٹ اور مایوسی خودکشی کی اہم ترین وجوہات میں سے ہیں۔ مومن کو اس بات کا بخوبی علم ہوتا ہے کہ زندگی نیکی اور بدی، آسانیوں اور مشکلات کا مجموعہ ہے۔ اس لیے جب زندگی کی کوئی رکاوٹ اس کے سامنے آتی ہے تو وہ صبر و استقامت کے ہتھیار سے مصیبتوں اور مشکلات پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے۔

مشکل حالات زندگی

خودکشی کی ایک چوتھی وجہ میں کئی مشترکہ حالات شامل ہیں۔ ان میں مشکل حالات زندگی، پیاروں کا کھو جانا، اور نفسیاتی عوارض کو شامل کیا جا سکتا ہے۔

الازہر آبزرویٹری نے کہا کہ خودکشی ایک انسانی جرم ہے جس کا ارتکاب ایک شخص اپنے اور اس کے خاندان کے خلاف کرتا ہے ۔ الازھر نے کہا جو بھی مسائل اور مشکلات ہوں انسان کو ان کا سامنا کرنے کی ہمت ہونی چاہیے۔ آبزرویٹری نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کے مسائل سے نمٹنے میں زیادہ محتاط رہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں