اٖفغان خواتین کی تعلیم پرپابندی، امریکی ناظم الامور کا اظہار یکجہتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغان اساتذہ اور طلبہ نے خواتین کے حق میں احتجاج کیا ہے۔ تقریبا ایک درجن سے زائد یونیورسٹی اساتذہ اور ان کے ساتھ متعدد طلبہ نے خواتین کی یونیورسٹی میں تعلیم پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ امریکی ناظم الامور نے بھی خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔ صورت حال ایران جیسی بننے کا خدشہ ہے۔

یونیورسٹی میں احتجاج کے لیے طلبہ اور اساتذہ اپنی کلاسز سے باہر نکل آئے اور انہوں نے نعرے بازی کی۔ اس موقع پر کابل یونیورسٹی کے ایک استاد عبیداللہ وردگ نے اپنے ٹویٹ میں کہا 'میں ایسی کسی جگہ کام نہیں کرنا چاہتا جہاں امتیاز برتا جاتا ہو اور باصلاحیت لڑکیوں کو تعلیم سے روک دیا جائے۔' انہوں نے مزید کہا 'خواتین کی تعلیم پر پابندی غیر منصفانہ ہے۔'

'افغان پیس واچ ' نامی این جی او نے اپنی پوسٹ میں دکھایا ہے کہ متعدد طلبہ اپنی کلاسز کا بائیکاٹ کر کے نکل رہے ہیں۔ جبکہ طالبات اپنی تعلیم کے چھوٹ جانے کا سن کر کلاس روم کے اندر رو رہی ہیں۔ بدھ کے روز اساتذہ کے اس احتجاج کے اگلے روز جمعرات کے دن چند لڑکیوں نے بھی کابل کی گلیوں میں اسی سلسلے میں احتجاج کیا ہے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق احتجاج کو روکنے کے لیے طالبان اہلکاروں نے چھڑیوں اور کوڑوں کا استعمال کیا۔ ان رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ طالبان پولیس نے پانچ احتجاجی خواتین کو اور ان کی احتجاج کی کوریج کرنے والے دو صحافیوں کو حراست میں لے لیے ہے۔

احتجاج کرنے والی خواتین 'تعلیم سب کے لیے' کے نعرے لگا رہی تھیں۔ مبصرین کے مطابق ایران کے بعد افغانستان میں بھی خواتین کے اسی طرح کے احتجاج کی شروعات ہو سکتی ہیں جیسے مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سے ایران میں جاری ہیں۔

ایران کے مظاہرے اب ایرانی حکومت کی تبدیلی کے لیے مضبوط آواز بن چکے ہیں۔ امریکی ناظم الامور برائے افغانستان کیرن ڈیکر نے طلبان کی طرف سے خواتین کی یونیورسٹی تعلیم روکے جانے پر خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے اور عسکری گروپ سے کہا ہے کہ وہ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔'

طالبان حکومت کے اس فیصلے پر امریکہ اور یورپ سمیت دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی افسوس ظاہر کیا گیا ہے۔ معاشی مسائل میں گھری طالبان حکومت کے لیے آنے والے دنوں میں مشکلات میں اور اضافہ ہو سکتا ہے۔

ادھر اعلی تعلیم کے لیے طالبان کی وزیر ندا محمد ندیم نے کہا ہے کہ اس پابندی کی وجہ طالبات کو گھروں سے دوسرے شہروں تک بحفاظت پہنچانے کے لیے نفری کی عدم دستیابی ہے۔ نیز طالبات کے لیے مخلوط ماحول کے بغیر تعلیم کے لیے ابھی انتظامات ممکن نہیں ہو سکے ، اس کے لیے کوشش جاری ہے۔

طالبان حکومت کے حامی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا 'اس مسئلے کے حل کے لیے اعلی سطح پر کام کر رہے ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں