روس کے لیے جاسوسی کرنے والے انٹیلی جنس افسر کو گرفتار کرلیا: جرمنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمنی میں فیڈرل پبلک پراسیکیوٹر نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ ایک جرمن انٹیلی جنس ایجنٹ کو بدھ کے روز گرفتار کر لیا گیا ہے جس پر روس کو معلومات پہنچانے کا شبہ ہے۔

اپنے ایک بیان میں جرمن پبلک پراسیکیوٹر نے کہا کہ جرمن شہری کارسٹن ایل جو فارن انٹیلی جنس سروس کا رکن ہے، پر سنگین غداری کا شبہ تھا اور اس کے اور ایک اور شخص کے اپارٹمنٹ اور دفتر کی تلاشی لی گئی ہے۔

ماسکو کو معلومات کی منتقلی

کارسلوہ میں پراسیکیوٹر کے دفتر، جو خاص طور پر جاسوسی کے مقدمات سے نمٹتا ہے، نے کہا کہ اس پر "2022 میں اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے دوران حاصل معلومات روسی انٹیلی جنس سروسز کو منتقل کرنے کا شبہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تفتیش فیڈرل فارن انٹیلی جنس سروس کے قریبی تعاون سے انجام دی گئی ہے۔

مشتبہ شخص ایک جج کے سامنے پیش ہوا جس نے اسے مقدمے سے پہلے حراست میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔

غیر ملکی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر برونو کاہل نے کہا ہے کہ اس خاص معاملے میں تحمل اور صوابدید بہت اہم ہے۔ روس کی بابت ہم ایک ایسی پارٹی کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں جس کا تشدد کی جانب رجحان کم ہے۔

انٹیلی جنس الرٹ

کاہل نے مزید کہا کہ اس معاملے میں عام کی جانے والی ہر تفصیل جرمنی کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں اس کے مخالف کو ہونے والے فائدہ کی نمائندگی کرتی ہے۔

یاد رہے جرمنی میں حالیہ برسوں میں روس کی جانب سے جاسوسی کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ دیگر یورپی ملکوں میں بھی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں۔ یوکرین میں روسی آپریشن کے آغاز کے بعد سے جرنی نے ایک مرتبہ پھر انٹیلی جنس الرٹس کی سطح کو بڑھا دیا ہے۔

خیال رہے 18 نومبر کو ایک جرمن ریزرو افسر کو روس کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک سال اور 9 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں