مصر میں دوران تلاوت رقص کرنے والے قاری نے معذرت کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قرآن مجید کی تلاوت کے دوران رقص کی طرح کی حرکتیں کرنے پر گرفتار کیے جانے کے بعد مصر کے مشہور قاری شیخ محمد حامد السلکاوی نے اس واقعے پر معافی مانگ لی۔

انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ میں کہا "میں اللہ تعالی سے اس غیر ارادی حرکت کے لیے معافی مانگتا ہوں جس کا تجربہ مجھے اس کی مقدس کتاب پڑھتے ہوئے ہوا۔"

انہوں نے مزید کہا میں اس معافی کے ذریعے قراء کرام کے سنڈیکیٹ کی قائم کمیٹی کی جانب سے مجھ پر عائد سزا کو کم کرنے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ بلکہ میں اپنی اس غیر ارادی حرکت کے لیے اللہ سے معافی کا طلبگار ہوں اور اس کی رضامندی چاہتا ہوں۔

سوشل میڈیا پر غم و غصہ

سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شیخ السلکاوی کا ایک ویڈیو کلپ گردش کرنے کے بعد غصے کا طوفان برپا ہوگیا تھا۔ اس ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا تھا کہ شیخ سلکاوی نے تلاوت قرآن کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں اور جسم کو عیب دار طریقے سے حرکت دے رہے ہیں ۔ ان کی یہ حرکتیں رقص کرنے والوں کی مانند لگ رہی ہیں۔ ویڈیو دیکھ کر بڑے پیمانے پر لوگوں نے اسے قرآن کریم کی عزت و حرمت کے تقدس کو پامال کرنے کے مترادف قرار دیا۔

ٹویٹ کرنے والوں نے مطالبہ کیا کہ اس قاری کو دوبارہ تلاوت کرنے سے روکا جائے اور اس کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں