ایران مظاہرے

ایران:سپریم کورٹ نے احتجاجی نوجوان کی سزائے موت برقرار رکھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی سپریم کورٹ نے ایک احتجاجی کوماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا ہے۔سرکاری میڈیا نے ہفتے کے روزاس سے قبل یہ اطلاع دی تھی کہ اس شخص کی اپیل قبول کرلی گئی ہے۔

سرکاری میڈیا نے خبردی تھی کہ سپریم کورٹ نے سزائے موت پانے والے دو مظاہرین محمدغوبادلو اور سمن سیدی کی اپیلیں منظورکرلی ہیں۔

نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے بعد میں ایک ترمیم جاری کرتے ہوئے کہا کہ غوبادلو کی اپیل مسترد کردی گئی ہے اوراس کی سزائے موت برقرار رکھی گئی ہے۔

سماجی کارکن گروپ 15000 نے اس خبر کے بعد ٹویٹ کیا کہ 22 سالہ نوجوان کی زندگی’’سنگین خطرے‘‘میں ہے۔

ایران پہلے ہی دو افراد کو احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں پھانسی دے چکا ہے۔23 سالہ محسن شکاری اور ماجد رضا راہ نورد کو رواں ماہ کے اوائل میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

اوسلو میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ کم ازکم 39 مظاہرین کو اس وقت سزائے موت کا سامنا ہے یا سزائے موت کا خطرہ لاحق ہے۔

ایران بھرمیں 16 ستمبر سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔تب یہ مظاہرے 22 سالہ ایرانی کرد خاتون مہسا امینی کی تہران میں اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد زیرحراست موت کے ردعمل میں شروع ہوئے تھے۔ایرانی حکومت ان مظاہروں کو 'فسادات' کا نام دیتی ہے۔

آئی ایچ آر کے مطابق مظاہروں میں سکیورٹی فورسز نے 63 بچوں اور 32 خواتین سمیت 469 افراد کو ہلاک کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں