دکھ کی اس گھڑی میں پیرس حملے کے متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں: بلنکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے پیرس میں کرد ثقافتی مرکز اور ایک ہیئر سیلون میں مسلح شخص کی طرف سے تین افراد کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے بعد کرد اور فرانسیسی عوام کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔

بلنکن نے جمعہ کو ٹویٹ میں لکھا، "تمام ہمدردی پیرس میں کرد ثقافتی مرکز پر حملے کے متاثرین کے ساتھ ہے۔ میرے خیالات بھی دکھ کی اس گھڑی میں کرد برادری اور فرانس کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔

جمعہ کو وسطی پیرس میں ایک کرد ثقافتی مرکز اور قریبی کیفے پر مسلح شخص نے فائرنگ کرکے 3 افراد کو ہلاک اور 3 کو زخمی کردیا تھا۔ جس پر رات کو درجنوں افراد نےسڑکوں پر نکل کر حتجاج کیا تھا۔

سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں

پیرس کے 10 ویں حلقے میں واقع ڈنگن سٹریٹ، جہاں پر چھوٹی دکانیں اور کیفے موجود ہیں، میں سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کی جس سے خوف و ہراس پھیل گیا۔

پولیس نے فائرنگ کے مقام سے کچھ ہی فاصلے پر مشتعل ہجوم کو پسپا کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے ۔ مظاہرین نے پولیس افسران پر گولے پھینکے، کچرے کے ڈبوں اور ریستوراں کی میزیں الٹ دیں اور کم از کم ایک کار کو نقصان پہنچایا۔

حکام نے کہا کہ انہوں نے ایک 69 سالہ شخص کو گرفتار کرلیا ہے ، اس کے متعلق پیرس کے پراسیکیوٹر لارے پیکوٹ نے بتایا کہ حال ہی میں اسے رہا کیا گیا تھا کیونکہ وہ ایک سال قبل پیرس میں مہاجر کیمپ پر چاقو سے حملے کے مقدمے کا انتظار کر رہا تھا۔ اسے جون 2016 میں بندوق کے تشدد کا مجرم قرار دیا گیا تھا اور اس نے اپیل کر رکھی تھی۔

فرانسیسی نیوز نیٹ ورکس کی طرف سے نشر تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ ایک سفید فام آدمی سرمئی رنگ کی قمیض اور سفید جوتے پہنے ،ہاتھ کمر کے پیچھے بندھے ہوئے منظر سے لے جایا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں