عالمی دباؤ: افغان طالبان کا خواتین کی یونیورسٹیاں دوبارہ کھولنے پر غور

افغان وزرائے داخلہ اور دفاع طالبان رہنما سے بات کرنے قندھار جائیں گے: العربیہ ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغان وزارت داخلہ کے ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ طالبان حکومت کے قائم مقام وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے قائم مقام وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد سے لڑکیوں کے لیے یونیورسٹیوں اور سکولوں کو دوبارہ کھولنے پر تبادلہ خیال کیا۔

طالبان رہنما سے بات کریں

ذرائع نے مزید کہا کہ بین الاقوامی اور اندرونی دباؤ کے بعد طالبان نے مذمت کے طوفان کے سامنے جھکنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اسی تناظر میں ذبیح اللہ مجاہد، سراج الدین حقانی، محمد یعقوب اور دیگر طالبان سپریم لیڈر ملا ھبۃ اللہ سے ملاقات کیلئے قندھار جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

منگل 20 دسمبر کو طالبان نے افغانستان میں ویمن یونیورسٹیز کی تعلیم پر اگلے نوٹس تک پابندی لگا دی تھی۔ لڑکیوں کو صرف پرائمری سطح تک تعلیم کی اجازت دی گئی تھی ۔ لڑکیوں کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم پر اگلے نوٹس تک پابندی لگا دی، یعنی لڑکیاں اور خواتین صرف پرائمری سطح تک ہی تعلیم حاصل کر سکتی ہیں۔

یونیورسٹی کیمپس میں داخلے پر پابندی

پابندی کے اعلان کے اگلے روز بدھ 21 دسمبر کو مسلح محافظوں نے سینکڑوں نوجوان خواتین کو افغان یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہونے سے روک دیا تھا ۔

عالمی غم وغصہ

اس فیصلے پر طالبان کو بین الاقوامی غم و غصہ کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک نے طالبان کے ہاتھوں افغان خواتین کے جبر کی شدید مذمت کی تھی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے طالبان کے فیصلے پر اپنی "گہری تشویش" کا اظہار کیا اورطالبان پر زور دیا کہ ہر سطح کی تعلیم تک مساوی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔

امریکی عدم اطمینان

امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے افغانستان میں لڑکیوں کو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے حق سے محروم کرنے کے طالبان کے اعلان پر شدید عدم اطمینان کا اعلان کیا تھا۔ بلنکن نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ افغان خواتین بہتر کی مستحق ہیں۔ افغانستان بہتر کا مستحق ہے۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے طالبان کی قبولیت کی جستجو کو بلاشبہ ایک دھچکا لگا ہے۔

افغانستان میں ہزاروں خواتین کو یونیورسٹیوں میں داخلہ کا امتحان دیا تھا اور اس کو تین ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ پابندی کا فیصلہ سامنے آگیا جس کے باعث خواتین شدید الجھن کا شکار ہو گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں