ماکروں کا اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے لبنانی رہ نماؤں کو "ہٹانے" کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے لبنانی اخبار النہار سمیت تین ذرائع ابلاغ کے ساتھ انٹرویو میں لبنان میں "قیادت کی تبدیلی" اور اصلاحات کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والے سیاسی رہ نماؤں کو "ہٹانے" کی ضرورت زور دیا ہے۔

ان کا یہ انٹرویو کل جمعہ 23 دسمبر کو نشر کیا گیا۔ فرانسیسی صدر جو کہ ستمبر 2020 سے لبنانی سیاسی طبقے پر زور دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ملک کو سیاسی اور اقتصادی بحران سے نکالنے کے لیے ضروری اصلاحات کو اپنائیں کا کہنا تھا کہ لبنان کا مسئلہ عوام کے مسائل حل کرنا اور ان کی مشکلات کو دور کرنا ہے۔ جو نہیں جانتے کہ یہ کیسے کرنا ہے۔

ان کا خیال تھا کہ اس کے بعد جو چیز درکار ہے وہ "مالیاتی نظام کی تشکیل نو اور ایک ایماندار صدر، ایک ایماندار وزیر اعظم، ایک ورک ٹیم کے ساتھ ایک منصوبہ تیار کرنا جو اسے نافذ کرے اور اسے عوام کی حمایت حاصل ہو۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اس ملک کی قیادت کو بدلنا ہوگا۔

"مدد"

ماکروں نے وزیر اعظم نجیب میقاتی کی "مدد" کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو ہر چیز کے باوجود ملک میں اصلاحات لانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔

لبنانی فوج کے کمانڈر جنرل جوزف عون کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جو صدارت کے لیے تجویز کیے جانے والے سب سے نمایاں ناموں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں لیکن وہ اس کے لیے باضابطہ امیدوار نہیں ہیں ماکروں نے انفرادی لوگوں کے بارے میں بات کرنے سے انکار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ناموں کے پیچھے کوئی حکمت عملی اور منصوبہ نہیں ہے تو یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔" فرانسیسی صدر نے مزید کہا کہ "مجھے لبنانی خواتین اور مردوں کی پرواہ ہے، نہ کہ وہ جو اپنے خرچے پر رہتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ سیاسی قوتوں کے ساتھ کسی نرمی کے بغیر ایک متبادل سیاسی حل کے ظہور میں مدد کرنا چاہتے ہیں اور "ان لوگوں کا کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کرتے جنہوں نے حالیہ برسوں میں ملک اور قوم کو متاثر کیا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم"لبنانی، شامی اور دیگر مسائل کو صرف بات چیت کے لیے ایک فریم ورک بنانے سے ہی حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان ملکوں کے مسائل کے حل میں خطے میں اثرو رسوخ کی وجہ سے ایران کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے "۔

31 اکتوبر کو سابق صدر میشل عون کی مدت صدارت ختم ہونے کے بعد سے لبنان اب بھی صدر کے بغیر ہے۔ لبنانی پارلیمنٹ میں شامل دھڑے کسی ایک امیدوار کو صدر منتخب نہیں کرسکے ہیں۔ ایران نواز حزب اللہ اور دوسرے دھڑوں میں اختلافات موجود ہیں۔ اب تک صدر کے چناؤ کے لیے لبنانی پارلیمنٹ کے دس سیشن منعقد کیے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں