پیرس کے مرکزی علاقے میں فائرنگ سے تین کرد ہلاک، ماکروں کا اظہار دکھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس کے دارالحکومت میں کرد کمیونٹی کے تین افراد ایک بندوق بردار کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ جمعہ کے روز پیرس کے ضلع 10 کے چھوٹی دکانوں اور کیفے والے بازار میں پیش آیا۔ جہاں تین کردوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اس حملے کو پیرس کے مرکزی علاقے میں سمجھا گیا ہے۔ فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے کردوں پر اس حملے کے بعد اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا ہے فرانس کے کرد سنگین حملوں کا نشانہ ہیں۔'

ان کے ٹویٹ میں مزید کہا گیا ' ہمارے خیالات ان متاثرین کے ساتھ ہیں جو اپنی زندگیوں کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کے خاندانوں کے ساتھ ہیں جواپنے پیاروں کے لیے پریشان ہیں۔'

بتایا گیا ہے کہ ایک بندوق بردار نے کرد ثقافتی مرکز اور کرد کیفے سنٹر کے قریب جمعہ کے روز تین کرد شہریوں کو نشانہ بنایا۔ جس کے بعد بڑی تعداد میں کر د مطاہرین سڑکوں اور گلیوں میں نکل آئے۔

وزیر داخلہ فرانس جیرالڈ ڈارمینن کا کہنا ہے کہ حملہ آور غیر ملکیوں کو ہی نشانہ بنانا چاہتا تھا لیکن یہ ابھی تصدیق نہیں ہوئی اس کا نشانہ صرف کرد شہری تھے۔ اس موقع پر کئی فائر کیے گئے ۔ جس کے نتیجے میں چھوٹی دکانوں اور کیفے والے بازار میں خوف وہراس پھیل گیا۔ یہ علاقہ پیراس کا مصروف ترین علاقہ سمجھا جاتا ہے۔

کرد ثقافت مرکز کے ایک وکیل کے مطابق تین ہلاک ہونے والے کرد لوگ تھے۔' اس واقعے کے بعد شام کو علاقے میں فساد کا ماحول پیدا ہو گیا جسے روکنے کے لیے پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔ ہنگامے کے دوران کم از کم ایک کار کو نقصان پہنچا ہے۔

پیرس کے پولیس حکام نے ایک 69 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے، اس شخص کو حال ہی میں رہا کیا گیا تھا۔ ایک سال پہلے اس نے تارکین وطن کے کیمپ پر حملہ کیا تھا۔ تاہم اس کے خلاف ابھی مقدمہ چل رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں