افغانستان وطالبان

احتجاج کرنے والے طالبعلم پرطالبان اہلکار کے وحشیانہ تشدد کے مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان میں طالبان حکومت کی طرف سے طالبات کی جامعات میں تعلیم پرپابندی کے فیصلے خلاف طلبا کے احتجاج کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

طالبان عناصر کے ہاتھوں نہتے طلبا پر بدترین تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح طالبان اہلکار ایک طالب علم کے چہرے پرلاتیں مار رہا ہے۔

یہ واقعہ قندھار میں پیش آیا جہاں طالبان اہلکاروں نے لڑکیوں کے تعلیم پر پابندی کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے والے طالب علموں کے ایک گروپ پر فائرنگ کی۔

ایک ویڈیو کلپ میں قندھار کی (میرویس نائیکی) یونیورسٹی کے طلباء کی طرف ہوا میں گولیوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، جب وہ لڑکیوں کے خلاف حکام کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے امتحانی ہالوں سے باہر بھاگے تھے۔

شدت پسند تحریک کے ایک رکن نے ایک افغانی نوجوان کو بھی تشدد سے مارا پیٹا اور اس کے چہرے اور پورے جسم پر لاتیں ماریں۔

گذشتہ منگل کو طالبان نے افغانستان میں لڑکیوں کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم پرتا اطلاع ثانی پابندی لگا دی۔اب بچیاں صرف پرائمری جماعتوں تک اسکول جا سکتی ہیں۔

طالبان کے اس فیصلے پر بین الاقوامی غم و غصہ کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ دنیا کے بیشتر ممالک نے طالبان کے ہاتھوں افغان خواتین کے جبر کی مذمت کی۔

اندرون ملک طالبان کے اس فیصلے کو مسترد کرنےکے لیے بڑے پیمانے پر مظاہرے پھوٹ پڑے، جس سے تحریک نے خواتین کو واٹر کینن اور لاٹھیوں سے تشدد کرکے انہیں منتشر کردیا۔

لڑکیوں اور خواتین کے لیے اعلیٰ تعلیم پر پابندی تین ماہ سے بھی کم وقت کے بعد لگائی گئی ہے جب ان میں سے ہزاروں افراد نے ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں داخلہ کا امتحان دیا تھا۔

طالبان کی تحریک نے آزادیوں پر پابندیاں بڑھا دی ہیں خاص طور پر خواتین کے خلاف جنہیں آہستہ آہستہ عوامی زندگی سے خارج کر دیا گیا ہے اور ثانوی اسکولوں سے باہر کر دیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ طالبان تحریک نے 15 اگست 2021ء کو ملک سے امریکا اور نیٹو افواج کے انخلاء کے موقع پر افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں