افغانستان وطالبان

افغانستان: طالبات کے ساتھ اظہار یکجہتی میں طلبا کا امتحانات اور تعلیمی عمل کا بائیکاٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کل ہفتے کے روز افغان طلبا نے ملک میں حکمران طالبان کے ملک میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے فیصلے کے خلاف احتجاج میں شامل ہوئے۔

ایک ویڈیو کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ "افغان پامیر" انسٹی ٹیوٹ کے طالب علم لڑکیوں کو تعلیم سے روکنے پر احتجاج کرتے ہوئے امتحان دینے سے انکار کر رہے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم کے لیے وقف اس ادارے کے متعدد طلبہ نے بھی بغیر جوابات کے اپنے امتحانی پرچے جمع کرادیے۔

اسی طرح افغانستان میں ہرات یونیورسٹی اور کابل یونیورسٹی کے طلباء نے طالبات کی تعلیم پرپابندی اٹھائے جانے تک تعلیم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

ادھر قندھارشہر میں ہونے والے امتحانات میں بھی طلبا کی بڑی تعداد نے امتحان کا بائیکاٹ کیا۔ طالبان سکیورٹی فورسزنے طلبا پر تشدد کیا اورطلبا کی مارپیٹ کی۔

گذشتہ منگل کو طالبان نے افغانستان میں لڑکیوں کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم پر غیرمعینہ مدت کے لیے پابندی لگا دی، جس کے بعد بچیوں کو چھٹی جماعت تک اسکول جانے تک محدود کردیا گیا ہے۔

طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پرپابندی پر عالمی سطح پرشدید غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف طالبان نے تمام اداروں سے خواتین ملازمین کو نکالنے کے لیے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے تمام ادارے خواتین ملازمین کو کام سے روک دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں