سعودی عرب: شادی کے 33 سال بعد عدالت نے خاتون کو مہر دینے کا حکم دیدیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے مغربی علاقے میں ایک اپیل کورٹ نے 33 سال قبل شادی کرنے والی خاتون شہری کو 50 ہزار ریال کا مہر دینے کا حکم جاری کر دیا۔

سعودی اخبار "عکاظ" کی طرف سے شائع ہونے والی وجوہات کے مطابق پچاس کی دہائی کی ایک خاتون نے پرسنل سٹیٹس کورٹ کے سامنے ایک مقدمہ دائر کیا جس میں کہا گیا کہ اس نے 33 سال قبل شادی کی تھی اور اس کے 5 بچے ہیں۔

اس کے ازدواجی تعلقات ختم ہوگئے مگر اسے مہر نہیں دیا گیا۔ مہر کی رقم 50 ہزار ریال طے کی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا میرے والد نے نکاح نامہ جاری کرتے وقت کہا تھا کہ اسے مہر مل گیا لیکن اصل میں مہر نہیں ملا تھا۔

سٹاک مارکیٹ میں انویسٹمنٹ کے نام پر مہر نہیں دیا گیا

مدعی نے بتایا کہ جہیز نہ ملنے اور اس کی خاموشی کی وجہ یہ تھی کہ اس کا شوہر سٹاک اور سٹاک ایکسچینج میں قیاس آرائیاں کر رہا تھا اور اسے لیکویڈیٹی کی ضرورت تھی اور اس نے سفر سے واپسی کے بعد اسے معاوضہ دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اس نے اپنے وعدے کی پاسداری نہیں کی۔ شوہر سے معاوضے کا اصرار کیا جاتا رہا، خاندانی وراثت میں جائیداد کی تقسیم بھی ہوگئی لیکن اس نے وعدے کی پاسداری نہیں کی۔ شوہر نے مہر دینے کے متعلق اپنی خاموشی برقرار رکھی۔

اس نے مزید کہا کہ شوہر نے اپنی ملازمت سے استعفی دینے کے بعد گھر کی تعمیر اور سجاوٹ کے بہانے ملازمت کے واجبات کی رقم حاصل کی تاہم پھر بھی اس نے میرا مہر ادا نہیں کیا۔ وہ مسلسل اس وقت تک رقم وصول کرتا رہا جب اس نے میرے اوپر دوسری شادی نہیں کرلی، اس کے بعد میں اس سے طلاق لینے پر مجبور ہوگئی۔

دوسری طرف شوہر نے ایک دور دراز عدالتی اجلاس میں مقدمہ کا جواب دیا کہ مدعی نے جو ذکر کیا ہے کہ وہ اس کی سابقہ بیوی اور اس کے بچوں کی ماں اور اس سے طلاق یافتہ ہے، یہ بات درست ہے۔ تاہم خاتون کا مہر وصول نہ کرنے کا دعویٰ درست نہیں ہے۔ تمام تفصیلات اور عقل کی رو سے بھی یہ دعویٰ درست ثابت نہیں ہو رہا۔ نکاح نامہ میں ثبوت کے ساتھ ثابت ہے کہ مہر کو سپرد کردیا گیا تھا لہذا اس کا یہ دعویٰ باطل ہے۔ مدعا علیہ شوہر نے کہا میری دوسری بیوی نے اس خاتون کو مقدمہ دائر کرنے پر اکسایا ہے۔

شوہر مہر ادا کرنے کا ثبوت دینے میں ناکام

عدالت نے بیوی سے ثبوت مانگے تو خاتون نے کہا میرے پاس اس کے سوا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ میں اس معاملہ پر حلف اٹھانے کیلئے تیار ہوں کہ اگر شوہر مجھ سے اپنے دعویٰ پر قسم کھانے کا کہے گا تو میں قسم کھا کر کہوں گی کہ میرے سابق شوہر نے مجھے سے 50 ہزار ریال پر شادی کی تھی اور اس نے اس مہر کی رقم میں سے مجھے کچھ بھی نہیں دیا۔

مقدمہ میں کئے جانے والے دعویٰ اور اس کے جواب اور فریقین کی جانب سے نکاح، اس کی تاریخ اور تفصیلات پر اتفاق کے بعد عدالت نے جائزہ لیا کہ شوہر نے جہیز نہ دینے کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ بیوی نے مہر وصول کر لیا ہے۔ اس نے بیوی کو مہر کی رقم دینے کا ثبوت پیش نہیں کیا۔ اس کا ثبوت یہ تھا کہ نکاح نامہ میں لکھا ہے کہ جہیز پہنچا دیا گیا ہے تاہم یہ لکھنا رقم دینے کی رسید کے طور پر کافی نہیں ہے۔ کیونکہ اصل عدم وصول ہے اور وصولی کا ثبوت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ شوہر نے بیوی سے عدم وصولی کاحلف اٹھانے کا کہا۔ مطلقہ نے حلف اٹھا کر کہ دیا کہ اس نے مہر کی رقم وصول نہیں کی۔ اب خاتون کو مہر حوالے نہ کرنا ثابت ہوگیا لہذا شوہر اپنی سابقہ بیوی کو مہر کے 50 ہزار ریال فراہم کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں