افغانستان وطالبان

طالبان کی خواتین عملہ پرپابندی کے بعدتین غیرملکی این جی اوزکاافغانستان میں کام بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

برطانیہ میں قائم سیو دا چلڈرن سمیت تین غیرملکی امدادی گروپوں نے اتوار کے روزافغانستان میں اپنا کام معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے یہ فیصلہ طالبان حکومت کی جانب سے تمام این جی اوز کوخواتین عملہ کو کام کرنے سے روکنے کے حکم کے بعد کیا ہے۔

سیودا چلڈرن، نارویجئن ریفیوجی کونسل (این آر سی) اور کیئر نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے:’’اگرچہ ہم اس اعلان کی وضاحت حاصل کررہے ہیں لیکن ہم اپنے پروگراموں کو معطل کررہے ہیں اور ساتھ اس بات پرزوردیتے ہیں کہ مرد اور خواتین افغانستان میں اپنی زندگی بچانے والی امداد کویکساں طور پر جاری رکھ سکتے ہیں‘‘۔

طالبان نے ہفتے کے روز دھمکی دی تھی کہ اگر این جی اوزخواتین کے کام کرنے پر پابندی کے حکم پر عمل درآمد میں ناکام رہیں تو ان کے کارآمدلائسنس معطل کردیے جائیں گے۔

یہ لائسنس جاری کرنے والی وزارت اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اسے 'سنگین شکایات' موصول ہوئی ہیں کہ این جی اوز میں کام کرنے والی خواتین مناسب اسلامی ضابطہ لباس پرعمل نہیں کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امورکی پبلک انفارمیشن آفیسر تاپیوا گومو نے اے ایف پی کو بتایا کہ’’ہیومینیٹیرین کنٹری ٹیم (ایچ سی ٹی) کا ایک اجلاس آج ہورہاہے۔اس میں اس مسئلے سے نمٹنے کے بارے میں مشاورت اور تبادلہ خیال کیا جائے گا‘‘۔

ایچ سی ٹی میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام اور درجنوں افغان اور بین الاقوامی این جی اوز کے نمائندے شامل ہیں جو ملک بھر میں امداد کی تقسیم کو مربوط کرتے ہیں۔

این جی او کے بعض عہدے داروں نے بتایا کہ اس اجلاس میں اس بات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا کہ آیا طالبان کی تازہ ہدایت کے بعد تمام امدادی کاموں کو معطل کیا جائے یا نہیں۔

دریں اثناء اقوام متحدہ نے طالبان کی وزارت کی ہدایت کی مذمت کی ہے۔اس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خواتین کو عوامی اور سیاسی زندگی کے تمام پہلوؤں سے منظم طریقے سے خارج کرنے کا حکم ملک کو پیچھے لے جائے گا اور اس سے ملک میں کسی بھی معنی خیزامن یا استحکام کی کوششوں کو خطرہ لاحق ہے۔

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے کہا ہے کہ یہ پابندی افغانوں کے لیے تباہ کن ہو گی کیونکہ اس سے لاکھوں افراد کی اہم اور زندگی بچانے والی امداد متاثر ہوگی۔

یہ پابندی ایک ایسے وقت میں عاید کی گئی ہے جب ملک بھر میں لاکھوں افراد غیرسرکاری تنظیموں کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے بین الاقوامی عطیہ دہندگان کی جانب سے مہیاکی جانے والی انسانی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔

گذشتہ سال اگست میں طالبان کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے افغانستان کا معاشی بحران مزید سنگین ہوگیا ہے۔واشنگٹن نے اس کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کررکھے ہیں اور غیرملکی امدادی اداروں نے بھی امداد روک لی ہے۔

افغان وزارت نے کہا کہ این جی اوز میں کام کرنے والی خواتین "... حجاب اور قومی اور بین الاقوامی تنظیموں میں خواتین کے کام سے متعلق دیگر قواعد و ضوابط کی پاسداری نہیں کررہی ہیں۔

یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس ہدایت سے این جی اوز میں غیر ملکی خواتین عملہ پر اثر پڑا ہے یا نہیں۔

درجنوں تنظیمیں افغانستان کے دور دراز علاقوں میں کام کرتی ہیں اور ان کا زیادہ ترعملہ خواتین پرمشتمل ہے۔ان میں سے کئی نے متنبہ کیا ہے کہ خواتین ملازماؤں پر پابندی ان کے کام کو روک دے گی۔

یہ تازہ ترین پابندی طالبان حکام کی جانب سے خواتین کے یونیورسٹیوں میں داخلے پرپابندی عاید کرنے کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے بعد افغانستان کے کچھ شہروں میں غم و غصے کے اظہارکے لیے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

گذشتہ سال اگست میں اقتدار میں آنے کے بعد سے طالبان پہلے ہی نوعمر لڑکیوں کواسیکنڈری اسکولوں میں تعلیم کے لیے جانے سے روک چکے ہیں۔خواتین کو کئی سرکاری ملازمتوں سے بھی نکال دیا گیا ہے، مرد رشتہ دار کے بغیر سفر کرنے سے روک دیا گیا ہے اور گھروں سے باہرمکمل برقع اوڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں