افغانستان وطالبان

طلباء کے احتجاج کے جواب میں طالبان نے ایک ہفتے کے لیے یونی ورسٹیاں بند کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان میں طلبا کی خواتین کے ساتھ یکجہتی کے جواب میں طالبان نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے خلاف طلبا کے احتجاج کے بعد کچھ یونی ورسٹیاں ایک ہفتے کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔

عسکریت پسند تحریک طالبان نے کچھ یونی ورسٹیوں کی تیاری نہ ہونے کی وجہ سے 7 دن کے لیے بند کرنے کے اپنے ارادے کو درست قرار دیا۔

طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے فیصلے کے خلاف افغان طلباء نے احتجاجاً امتحانات دینے سے انکار کر دیا۔

یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب افغان طالب علموں نے ہفتے کو طالبان کے ملک میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے فیصلے کے خلاف مظاہروں میں شمولیت اختیار کی۔

ایک ویڈیو کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ "پامیر افغان" یونی ورسٹی کے طالب علم لڑکیوں کو تعلیم سے روکنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے امتحان دینے سے انکار کر رہے ہیں۔

پامیر انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن کے متعدد طلباء نے بھی بغیر جوابات کے اپنے امتحانی پرچے جمع کرادیے۔

قندھار میں فائرنگ

قندھار میں بھی طلبا نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے حکام کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے امتحانی ہال چھوڑ دیے جس کے بعد انہوں نے احتجاج کیا تو طالبان فورسز نےان پرگولیاں چلائیں اور ان کی مار پیٹ کی۔

ایک ویڈیو میں وہ لمحہ دکھایا گیا جب طالبان نے قندھار میں افغان طلباء پر ہوائی فائرنگ کی۔

متوازی طور پر طالبات نے پابندی کے باوجود ننگرہار کی شیبن یونیورسٹی میں جانے کی کوشش کی جہاں طالبان حکام اور طلبا کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

گذشتہ منگل کو طالبان نے افغانستان میں لڑکیوں کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم پر تا اطلاع ثانی پابندی لگا دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں