نیپال کے سابق مارکسی گوریلا رہ نما پراچندا نئے وزیراعظم بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

نیپال میں ہندو بادشاہت کے خلاف ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک شورش کی قیادت کرنے والے سابق ماؤنواز گوریلا رہ نما پراچندا کو اتوار کے روز تیسری بار وزیراعظم مقرر کیا گیا ہے۔

گذشتہ ماہ نیپال میں منعقدہ انتخابات کے نتیجے میں ایک معلق پارلیمان معرض وجود میں آئی تھی اور کوئی بھی جماعت حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔ پشپا کمال داہل نے حکومت کی تشکیل کے لیے مرکزی حزب اختلاف کے ساتھ اتحاد کیاہے۔

پارٹی عہدے داروں نے بتایا کہ پشپا کمال داہل حزب اختلاف کی کمیونسٹ یونیفائیڈ مارکسسٹ لیننسٹ (یو ایم ایل) پارٹی اور کچھ دیگر چھوٹے گروپوں کی حمایت سے پانچ سالہ میعاد کے پہلے نصف حصے میں نئی حکومت کی سربراہی کریں گے۔پشپا کمال داہل اب بھی اپنے عرفی نام پراچندا سے معروف ہیں۔نیپالی زبان میں اس کا مطلب خوف ناک اورخطرناک ہے-

صدر بدیا دیوی بھنڈاری کی معاون ٹکا دھکل نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا:’’پراچندا کو وزیراعظم نامزد کردیا گیا ہے اور انھیں پارلیمان کی ایک بڑی اکثریت کی حمایت حاصل ہے‘‘۔

مقامی میڈیا کے مطابق نیپالی کانگریس پارٹی کے شیر بہادر دیوبا کی جگہ لینے والے پراچندا 2025 میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے جس کے بعد یو ایم ایل کے لیے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کی راہ ہموار ہوگی۔

پراچندا کی ماؤنواز پارٹی کے سکریٹری جنرل دیوگرونگ نے نئے اتحاد کے اجلاس کے بعد رائٹرز کو بتایا کہ دیگراہم عہدوں اور وزارتوں کی تقسیم کا باقی کام ابھی باقی ہے۔

نیا اتحاد 68 سالہ پراچندا کے حیرت انگیز طور پر نیپالی کانگریس پارٹی کے دیوبا کی سربراہی میں حکمران اتحاد سے واک آؤٹ کرنے کے چند گھنٹے بعد اقتدار میں آیا ہے۔ دیوبا نے وزیراعظم کے عہدے کے لیے پراچندا کی حمایت کرنے سے انکار کردیا تھا۔

دیوبا اور پراچندا دونوں نے نومبرمیں منعقدہ انتخابات میں مل کر مہم چلائی تھی اور پرانے اتحاد کو کئی سال تک برقرار رکھنے کا عہد کیا تھا۔

275 ارکان پرمشتمل ایوان نمائندگان میں پراچندا کی ماؤنوازسنٹر پارٹی نے 32 نشستیں حاصل کیں۔ یو ایم ایل کے پاس 78 نشستیں ہیں۔انھیں ایوان میں 138 ارکان کی سادہ اکثریت کے لیے چھوٹی جماعتوں اور گروپوں کی حمایت درکار ہے۔نیپالی کانگریس پارٹی 89 نشستوں کے ساتھ اپوزیشن میں ہوگی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہت سے اتحادی شراکت داروں کی وجہ سے پراچندا ملک میں استحکام نہیں لاسکیں گے اور انھیں سنگین معاشی چیلنج کا بھی سامنا ہوگا۔

نیپال میں افراط زرکی شرح 8 فی صد سے زیادہ ہے اور یہ گذشتہ چھے سال میں سب سے زیادہ ہے۔چین اور بھارت کے درمیان واقع نیپال کوغیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کا بھی سامنا ہے۔اس کی بنیادی اشیاء کی درآمدات میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر سکڑ رہے ہیں۔

ملک کے مرکزی بینک کے سابق گورنردیپیندر بہادرکھتری نے صحافیوں کو بتایاکہ ’’معیشت میں بڑھوتری کا امکان نہیں کیونکہ سیاسی عدم استحکام سے سرمایہ کاری اور کاروبار متاثر ہوں گے‘‘۔

واضح رہے کہ نیپال میں سنہ 2008 سے اب تک دس حکومتیں تبدیل ہوچکی ہیں۔تب 239 سال پرانی بادشاہت کا خاتمہ کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں