اینگلز ایئر بیس پر ڈرون حملے میں 3 فوجی مارے گئے: روس کی تصدیق

ڈرون کو مار گرایا، فضائی دفاعی سازو سامان کو نقصان نہیں پہنچا، اضافی یونٹس کی تقرری کیلئے د ن رات کام کر رہے: روسی دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کی وزارت دفاع نے پیر کے روز تصدیق کی ہے کہ روسی علاقے سراتوف میں اینگلز ایئر بیس پر ڈرون حملے میں روس کے 3 فوجی مارے گئے۔ وزارت دفاع نے کہا کہ اینگلز ایئر بیس کے فضائی دفاع نے حملہ کرنے سے پہلے ڈرون کو مار گرایا اور ایئر بیس پر موجود فضائی دفاعی ساز و سامان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

یوکرینی اور روسی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ آج صبح سویرے روسی فضائیہ کے اڈے اینگلز پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جو یوکرین میں اگلے مورچوں سے سینکڑوں میل کے فاصلے پر واقع ہے۔

روس کے سراتوف علاقے کے گورنر نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فوجی تنصیب میں ہونے والے واقعہ کی معلومات کی جانچ کر رہے ہیں۔ علاقے کے گورنر رومن بسارگین نے "انسٹاگرام" پر مزید کہا کہ شہر کے رہائشی علاقوں (اینگلز) میں ہنگامی حالت کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ شہری بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔

یوکرین کی خبر رساں ایجنسی ’’آر بی سی ‘‘نے بتایا کہ دو دھماکے ہوئے ہیں۔ روسی نیوز ویب سائٹ ’’بازا ‘‘نے مقامی باشندوں کے حوالے سے بتایا کہ سائرن بجنے لگے اور دھماکے کی آواز سنی گئی۔

خبر رساں ایجنسی "انٹرفاکس" نے روسی وزارت دفاع کے حوالے سے کہا ہے کہ روسی افواج یوکرین کی طرف سے شروع کئے گئے میزائل اور فضائی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے مقامات پر 24 گھنٹے کام کر رہی ہیں۔ ’’ایس 300 وی‘‘ سسٹم کے عملے نے روس کے طویل فاصلے تک زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم کے لیے نئی پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔ انٹر فاکس نے ایک فوجی کمانڈر کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ’’ایس 300 وی‘‘ بیٹری 204 کلومیٹر کے فاصلے اور 30 کلومیٹر کی بلندی سے ہدف کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ماسکو سے تقریباً 730 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع سراتوف شہر کے قریب واقع فضائی اڈے پر پانچ دسمبر کو بھی یوکرین کے ڈرونز نے حملہ کیا تھا۔ اس روز دو روسی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ان دوہرے حملوں نے ماسکو کی ساکھ کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں