ریاض میں ’’الماریہ‘‘ آرٹ نمائش کی سرگرمیاں اختتام پذیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مسک چیریٹی ویک کے سلسلہ میں الماریہ نمائش برائے فائن آرٹ کےدوسرے ایڈیشن کی سرگرمیاں اختتام پذیر ہو گئیں۔ اس سال سلطنت عمان سے مصور حسن میر کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیاگیا تھا۔ دیگر میں مصورہ فاطمہ النمر، مصور زمان جاسم، مصورہ نجلا السلیم کے پیش کردہ نئے تجربات کی نمائش کی گئی۔

نمائش کی تفصیلات کے بارے میں بات کرتے ہوئے سعودی مصور فاطمہ النمر نے بتایا کہ نمائش نے اس سال اپنے ایڈیشن میں ان چار عناصر کے انضمام پر توجہ مرکوز کی تھی جن پر جزیرے کے باشندوں کی زندگیاں کا انحصار ہوتاہے۔ یہ چار عناصر "ہوا، پانی، آگ، مٹی" ہیں۔ ہر مصور نے انسانی زندگی کی کہانیاں اور راز دریافت کرنے پر توجہ کی۔ متحرک اور ساکن تصاویر، آواز، روشنی اور دیگر طریقوں سے ناظرین کو انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں اور بھولی ہوئی داستانوں سے روشناس کرانے کی کوشش کی گئی۔

مصورہ فاطمہ النمر نے مزیدکہا میرا کام ’’خوبصورت اور آگ‘‘کے نام سے معروف دف کی تنصیب کرنے کے پروجیکٹ کے ذریعہ آگ کو مجسم کرتا ہے۔ یہ قطیف کے علاقے کےمشہور فنکاروں کے گانوں کے خاکے اور دھن کی نمائندگی کرتا ہے۔ فاطمہ النمر نے بتایا کہ وہ اپنی پینٹنگز کی نمائش کے لیے ہر سال مسقط، بحرین، لندن اور فرانس سے دنیا بھر کے مختلف مقامات کا دورہ کرتی ہیں۔

فنکار زمان الجسم نے آرٹ کے 3 ٹکڑوں میں پناہ گاہ کے تجربے اور سکون کی نہ ختم ہونے والی جستجو کو پیش کیا۔ پلاسٹک آرٹسٹ نجلا السلیم نے ایک فنکارانہ گروپ پیش کیا جو مٹی کے زندگی کے سفر اور اس میں ہونے والی تبدیلیوں پر غور کرتا ہے۔ یہ ایک زندہ عنصر کے طور پر آسمان اور زمین کے درمیان، صحرا میں چار عناصر کے انضمام کے معجزے پر غور کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں