سعودی عرب: سیوریج کے پانی کو آب پاشی کے لیے استعمال کیے جانے کے واقعے کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

مکہ مکرمہ میں سکیورٹی اور صحت کے حکام نے متعدد فارموں پر سیوریج کے پانی سے فصلوں کوسیراب کیے جانے کے واقعے کی تحقیقات شروع کی ہیں۔ یہ تحقیقات ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہیں جب مقدس دارالحکومت میونسپلٹی نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں متعدد فارموں میں 8 زرعی فلیٹس کو مسمار کیا ہے۔

مقدس دارالحکومت کی میونسپلٹی نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ سیکریٹریٹ میں میونسپلٹی ایجنسی، خطے میں سکیورٹی حکام اور صحت کے امور اور مقدس دارالحکومت میں ماحولیات، پانی اور زراعت کی وزارت کے دفتر کے تعاون سے نے متعدد خلاف ورزی کرنے والے فارموں کو بند کردیا ہے۔ فارم مالکان کھیتوں میں سبزیاں اور دیگر اجناس کی کاشت کے لیے سیوریج کا پانی استعمال کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں متعدد کھیتوں میں وسیع رقبے پر تعمیر کیے گئے 8 فلیٹس کو بھی مسمار کر دیا گیا ہے۔ ان فلیٹس کو گندے پانی کو فصلوں کی آب پاشی کے لیے استعمال میں لانے پرخطرناک قرار دیتے ہوئے مسمار کیا گیا۔

حکام نے واضح کیا کہ ماحولیاتی تحفظ اور صحت وصفائی کو یقینی بنانے کےلیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔ اس ضمن میں ہونے والی کسی بھی غیرقانونی سرگرمی کا سختی سے نوٹس لیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں