پیرس میں تین کردوں کے قتل میں ملوّث مشتبہ شخص پر فردِجُرم عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں تین کردوں کو گولی مار کر قتل کرنے کے شُبے میں گرفتار ایک فرانسیسی پنشنر پرفرد الزام عاید کردی گئی ہے اوراسے باضابطہ طورپرزیرحراست ریمانڈ پر دے دیاگیا ہے۔

اس انہترسالہ شخص نے گذشتہ جمعہ کوپیرس کے دسویں ضلع میں کرد ثقافتی مرکز اور اس کے نزدیک واقع کیفے میں دو مردوں اور ایک خاتون کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

اس مشتبہ شخص نے پوچھ گچھ کے دوران میں کہا کہ 2016 میں اس کے گھرمیں چوری کی واردات نے اس میں ’’غیرملکیوں کے خلاف نفرت کو جنم دیا تھا اور وہ مکمل طورپرنفسیاتی مریض بن گیا تھا‘‘۔

استغاثہ کاکہنا تھا کہ اس شخص نے خود کوڈیپریشن میں مبتلا اور خودکشی کا رجحان رکھنے والا قراردیا ہے اور بتایا کہ اس نے حملے کے بعد آخری گولی سے خودکشی کا منصوبہ بنایا تھا۔

کرد نمائندوں نے جمعہ کوفائرنگ کے اس واقعہ کو دہشت گردانہ حملہ قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔استغاثہ نے بتایا کہ مشتبہ شخص اتوار کے روز نفسیاتی یونٹ میں رہا ہے اور ایک روزقبل ہفتے کوطبی بنیاد پراس سے پوچھ گچھ روک دی گئی تھی۔

استغاثہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ مشتبہ شخص کو حال ہی میں حراست سے رہا کیا گیا تھا۔اس کے خلاف ایک سال قبل پیرس میں تارکین وطن کے ایک کیمپ پر حملے کے مقدمے کی سماعت کی جارہی تھی۔

پیرس میں کردکمیونٹی کی تین ہلاکتوں کے بعد مشتعل افراد اور پولیس کے درمیان ہفتے کے روزتشدد آمیزجھڑپیں ہوئی تھیں اور ان میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔شہرمیں مظاہروں کے روایتی مقام ری پبلک اسکوائر کے قریب مشتعل مظاہرین نے متعدد کاریں الٹا دی تھیں اورمظاہرین نے جگہ جگہ آگ لگادی تھی۔پولیس کی جانب آتش گیرمواد پھینکا،اس کے جواب میں پولیس نے اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے۔

استغاثہ کے دفتر نے اس سے پہلے کہا تھاکہ مشتبہ شخص سے پوچھ گچھ کے بعد تفتیش کاروں نے قتل اور ہتھیاروں کے ساتھ تشدد کے ابتدائی الزامات میں ایک مشتبہ نسل پرستانہ مقصد کااضافہ کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں