"برہنہ واک": ہیری اور میگن نے برطانوی اخبار ’’دی سن‘‘ کی معافی مسترد کر دی!

اصل معافی کوریج کو تبدیل کرنے، زیادہ اخلاقی معیار اپنانے سے ہوگی، بدقسمتی سے ایسا ہوتانظر نہیں آرہا: ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانوی شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل نے برطانوی میڈیا آؤٹ لیٹ’’ دی سن‘‘ کی جانب سے نامناسب مضمون کی اشاعت کے بعد مانگی گئی معافی مسترد کردی۔

ہیری اور میگھن کے ترجمان نے کہا اخبار ’’دی سن‘‘ نے پبلسٹی سٹنٹ کے طور پر یہ مضمون شائع کیا اور اس میں براہ راست ڈچس آف سسیکس کی توہین کی گئی تھی۔

صحافی جیریمی کلارکسن نے اپنے مضمون میں میگھن مارکل سے اپنی "نفرت" کا اظہار کیا جس کے بعد کلارکسن کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ مضمون کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ برطانیہ میں آزاد سٹینڈرڈز آرگنائزیشن کو سب سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں۔

جیریمی کلارکسن اور میگھن مارکل
جیریمی کلارکسن اور میگھن مارکل

کلارکسن نے مضمون میں لکھا تھا کہ اس نے اس دن کا خواب دیکھا تھا "جب میگھن کو برطانیہ کے ہر شہر کی سڑکوں پر برہنہ چلنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جب کہ ہجوم اسے خوش کرتے ہیں (اوہ، کیا شرم کی بات ہے!) اور اس پر گندگی پھینکتے ہیں۔ "

یہ مضمون "نیٹ فلیکس" پر جوڑے کی حالیہ دستاویزی سیریز کے جواب میں لکھا گیا تھا جس میں انہوں نے برطانوی پریس پر نسل پرستی اور میگھن کو تباہ کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا تھا۔

برطانیہ کی انڈیپنڈنٹ پریسسٹینڈرڈز آرگنائزیشن کو اس مضمون کے متعلق 20 ہزار سے زیاذہ شکایات موصول ہوئیں۔ کئی برطانوی عوامی شخصیات نے بھی مضمون کی مذمت کی تھی۔

’’دی سن ‘‘ نےمضون کے مصنف کی درخواست پر اس مضمون کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹا لیا اور ٹوئٹر پر وضاحت کی تھی کہ اس نے اسے ’’گیم آف تھرونز‘‘ کے ایک منظر کے احمقانہ اقتباس سے متاثر ہوکر لکھا تھا۔ یاد رہے مشہور سیریز ’’گیم آف تھرونز‘‘ کے نمایاں مناظر میں سے ایک منظر میں ایک خاتون کردار کو ’’مارچ آف شیم‘‘ میں برہنہ ہو کر سڑکوں پر چلنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور لوگ اس پر گندگی پھینکتے ہیں۔

دی سن نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا کہ مصنفین کی آرا ان کے علاوہ کسی کو پابند نہیں کرتی، لیکن ہم بحیثیت ناشر یہ سمجھتے ہیں کہ آزادی اظہار کا تعلق ذمہ داری سے ہے۔ ہمیں دی سن میں اس مضمون کو شائع کرنے پر افسوس ہے۔

ہیری اور میگھن کے ترجمان نے کہا کہ اخبار دی سن کی جانب سے براہ راست رابطہ کرکے میگھن سے معافی مانگنے میں ناکامی سے ہی ان کے ارادوں کو پتہ چل جاتا ہے، یہ محض ایک پبلسٹی سٹنٹ ہے۔ اگر دی سن نفرت، تشدد اور بدگمانی پر مبنی استحصال جاری نہ رکھتا تو ہمیں ایسی صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ ترجمان نے کہا کہ اصل معافی ان کی کوریج میں تبدیلی اور ہر ایک کے ساتھ اخلاقی معیار کو اپنانے کے ذریعے ہوگی۔ بدقسمتی سے ہمیں اس کا کوئی اشارہ نظر نہیں آتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں