افغانستان وطالبان

خواتین پر کام کرنے کی پابندی کے بعد انسانی حقوق تنظیموں کا افغانستان سے انخلا

لاکھوں افعانوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے: یو این مشن، طالبان خواتین کو معاشرے سے خارج کرنا چاہتے: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے خواتین کے این جی اوز میں کام کرنے کی پابندی کے اعلان کے بعد امدادی تنظیموں کرسچن ایڈ اور ایکشن ایڈ نے بھی افغانستان میں سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔ اس طرح افغانستان میں اپنا کام معطل کرنے والی عالمی تنظیموں کی تعداد چھ ہوگئی ہے۔

برطانوی کرسچن ایڈ نے افغانستان میں اپنے کام کو معطل کرنے پر افسوس کا اظہار کیا اور طالبان سے پابندی کو منسوخ کرنے کی اپیل کردی۔

اسی طرح کا ایک مشترکہ بیان سیو دی چلڈرن، نارویجن ریفیوجی کونسل اور کیئر اور دیگر تنظیموں نے بھی جاری کیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ جیمز کلیورلی نے کہا کہ طالبان افغانستان میں غیر سرکاری تنظیموں میں خواتین کے کام پر پابندی لگا کر انہیں معاشرے سے خارج کرنا چاہتے ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لیں ۔ انہوں نے کہا طالبان کے فیصلے سے لاکھوں افغانوں کو انسانی امداد اور رسد کی فراہمی روک دی جائے گی۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کے قائم مقام سربراہ نے طالبان حکومت میں قائم مقام وزیر اقتصادیات پر زور دیا کہ وہ غیر سرکاری تنظیموں میں خواتین کے کام پر پابندی کے فیصلے کو منسوخ کریں ۔ یو این مشن نے مزید کہا کہ لاکھوں افغانوں کو انسانی ہمدردی اور مدد کی اشد ضرورت ہے۔ اس طرح کی مدد کی فراہمی کیلئے موجودہ رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے۔

واضح رہے طالبان حکومت کی وزارت اقتصادیات نے تمام ملکی اور غیر ملکی این جی اوز پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے ملازمین کو اگلے نوٹس تک کام کرنے سے روک دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں