پیرس حملے کے مجرم کا چونکا دینے والا اعتراف "افسوس ہے کہ اس نے مزید لوگوں کونہیں مارا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس میں تین کرد باشندوں کو گولیاں مار کرہلاک کرنے والے ایک مقامی مجرم نے عدالت کے سامنے عجیب اعتراف جرم کیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ غیرملکیوں سے نفرت کرتا ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کرنا چاہتا تھا۔

ایک عدالتی ذریعہ نے بتایا کہ پیرس میں جمعہ کو تین کردوں کے قتل اور تین دیگر کے زخمی ہونے کے الزام میں ملزم کے خلاف پیر کو فرد جرم جاری کی گئی۔ اس موقعے پر ملزم نے اعتراف کیا کہ اسے "غیر ملکیوں سے نفسیاتی نفرت" ہے۔

ذرائع نے اشارہ کیا کہ مشتبہ شخص جو فرانسیسی شہریت کے ساتھ ایک ریٹائرڈ ٹرین ڈرائیور ہے پر تفتیشی جج نے نسل پرستانہ ، ملک یا مذہب کی بنیاد پر قتل اور اقدام قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس پر بغیر کسی ہتھیار کے حصول اورلائسنس کے بغیر ہتھیار رکھنے کا بھی الزام لگایا گیا تھا۔

پیر کو کردوں پر حملے کا مرتکب ایک تفتیشی جج کے سامنے پیش ہوا۔ یہ اس ملزم پر فرد جرم عائد کرنے کا آغاز ہے۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے بتایا کہ پیرس حملے کے مجرم نے تحقیقات میں کہا کہ اسے مزید لوگوں کی ہلاکت نہ ہونے کا افسوس ہے۔

فرانسیسی پراسیکیوٹر نے اتوار کو کہا کہ وہ پیرس کے مضافات میں غیر ملکیوں کو قتل کرنا چاہتا تھا۔

پیرس میں پبلک پراسیکیوشن آفس کی جانب سے جمعے کے روز پیرس میں ہونے والے حملے کے مرتکب کی تحقیقات کے حوالے سے ایک بیان میں جس کے نتیجے میں تین کرد ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوئے، حملہ آور کے حوالے سے کہا گیا کہ جب 2016ء میں اس کا گھر لوٹ لیا گیا تھا تو وہ اس وقت سے خودکشی اور تارکین وطن کو مارنا چاہتا تھا۔

69 سالہ ریٹائرڈ نے ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے پیرس میں ایک کرد ثقافتی مرکز اور ایک ہیئر ڈریسنگ سیلون کو گولیوں سے نشانہ بنا کر تین کردوں کو ہلاک کیا۔ اس نے وضاحت کی کہ اس نے ایسا غیر ملکیوں سے نفرت کی وجہ سے کیا۔"

ادھر کل سوموار کوپیرس میں تین کرد باشندوں کی ہلاکت کے خلاف نکالےگئے ایک جلوس میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔

اے ایف پی کے ایک نامہ نگار نے بتایا کہ ان جگہوں پر انہوں نے چھوٹے ڈھانچے بنائے جہاں تینوں متاثرین گرے تھے ان کی تصویروں کے علاوہ موم بتیاں اور پھولوں کے گلدستے رکھے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں