یواے ای کے محکمہ شہری ہوابازی کا ورٹی پورٹس پردنیا کا پہلا قومی ریگولیشن جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دنیا بھر میں، برقی عمودی طیاروں کی اڑان اور لینڈنگ (ای وی ٹی او ایل)،شہری ہوابازی کی تیزرفتار اور بڑھتی ہوئی ترقی نے نئے بنیادی ڈھانچے، نئے نیٹ ورکس، اور نئے ریگولیٹری نقطہ نظر کوناگزیربنا دیا ہے۔

اس ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تیزی سے ترقی کی معاونت اورامارات کی انتہائی ترقی پسند اور مسابقتی شہری ہوابازی کی صنعت میں دنیا بھر میں سرمایہ کاری جاری رکھنے کے لیے ورٹی پورٹس سے متعلق دنیا کا پہلا قومی ریگولیشن شائع کیا ہے۔

یہ ریگولیشن ایک ریگولیٹری ماحول کو یقینی بناتے ہوئے ورٹی پورٹس کے ڈیزائن اور آپریشنل ضروریات کا احاطہ کرتا ہے جو طیاروں کی عمودی اڑان بھرنے اور لینڈنگ (وی ٹی او ایل) کے مؤثر اور محفوظ آپریشن کی تائید کرتا ہے۔

الامارات کی خبررساں ایجنسی وام نے منگل کے روز اطلاع دی ہے کہ ریگولیشن کے نئےمسودے کو مجوزہ ترامیم اورشہری ہوابازی کی صنعت کی مشاورت کے لیے جاری کردیا گیا ہے اوراسے 2023 کی پہلی سہ ماہی میں اس کی حتمی شکل میں شائع کردیا جائے گا۔

ورٹی پورٹس کی طلب میں تیزی آرہی ہے کیونکہ ای وی ٹی او ایل مینوفیکچررز کا مقصد 2024 تک اپنے طیارے لانچ کرنا ہے۔ جیسا کہ 2030 تک ایک ممکنہ عالمی نیٹ ورک کا تصورکیا جاتا ہے، اس انوکھی کاربن سے پاک اور غیرجانبدار صنعت کے مناسب، محفوظ، اور منظم بنیادی ڈھانچے کے قواعد وضوابط وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

محفوظ اور منظم انفراسٹرکچر کے ذریعے نقل وحمل کے اس نئے طریقے سے وابستہ وعدوں میں شہروں کے اندر مسافروں کی تیز رفتار نقل و حرکت کو یقینی بنانا اور ٹریفک جام کو کم کرنا ، نیز ہنگامی صورت حال میں تیزی سے لاجسٹک ردعمل اور شہروں میں بازاروں تک آسان رسائی شامل ہے۔

یواے ای کا ورٹی پورٹس ریگولیشن شہری فضائی نقل وحرکت کو مضبوط بناتا ہے جبکہ ایک ہی وقت میں میں ہوا بازی کے شعبے میں حفاظت کی سطح کو بڑھاتا ہے ، اور فعال طور پر ورٹی پورٹس کے لیے ایک منفرد سرٹی فکیٹ کے اجراء اور ریگولیٹری نگرانی کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔اس سے اہم قومی بنیادی ڈھانچے اور ہوا بازی کے نظام کی حفاظت میں اضافہ ہوگا جبکہ عالمی ہوا بازی کی صنعت میں متحدہ عرب امارات کی قائدانہ حیثیت کو برقراررکھے گا۔

جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سیف محمد السویدی نے کہا:’’ورٹی پورٹس کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کی فعال ترقی متحدہ عرب امارات کے اندر شہری فضائی نقل وحرکت کے محفوظ اور ہموارآپریشن کو یقینی بنانے کے لیے ایک بنیادمہیّاکرتی ہے۔ اعلیٰ درجے کی فضائی نقل و حرکت کی تیزرفتارترقی کاربن کے اخراج میں کمی ،مسافروں کی بھیڑ میں کمی ، اور ناقابل رسائی مارکیٹوں میں داخلے کے مواقع پیش کرتی ہے۔اس کے اہداف ہوا بازی کی صنعت میں ہمارے متعلقہ فریقوں کے ساتھ ویژن ، منصوبہ بندی اور قریبی تعاون کے ذریعے قابل حصول ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں